اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر کے مثبت رویے کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسائل کا پائیدار اور دیرپا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عملدرآمد کمیٹی معاہدے کے تحت کیے گئے تمام وعدوں کی تکمیل کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے اور اس سلسلے میں پیش رفت جاری ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ تھم گیا
وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر حکومت دونوں مشترکہ مطالبات پر عملدرآمد کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہیں اور عوامی مشکلات کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے 37 مطالبات میں سے بیشتر پر پہلے ہی عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ باقی مطالبات پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے
متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ جلد از جلد انہیں مکمل کیا جائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شعیب ملک اور ونیزا ستار کی 27 فروری کو شادی کی افواہیں: ثنا جاوید سے علیحدگی کی خبروں میں کتنی حقیقت ہے؟
انجینئر امیر مقام نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایکشن کمیٹی مذاکرات کی میز پر واپس آئے تاکہ باقی ماندہ معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا:“مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا سب سے مؤثر راستہ ہیں۔ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں اور ہم ہر قسم کے تحفظات دور کرنے کے لیے بیٹھنے کو تیار ہیں۔”
مزید یہ بھی پڑھیں:رواں سال کامکمل چاند گرہن کب ہوگا؟ وقت اور مقامات کی تفصیلات سامنے آگئیں
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جس سے ریاست میں استحکام، ترقی اور عوامی ریلیف کو یقینی بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے ایکشن کمیٹی کی قیادت پر زور دیا کہ وہ زیرِ التوا مسائل کے حل کے لیے بامعنی، مثبت اور تعمیری مذاکرات کا راستہ اختیار کرے تاکہ عوامی مفاد میں قابلِ عمل اور قابلِ قبول حل نکالا جا سکے۔




