برطانیہ جانے والے پاکستانیوں کیلئے ای ویزہ متعارف کراد یا گیا

برطانیہ جانے والے پاکستانی شہریوں بشمول سیاح اب ای ویزہ کے ذریعے سفر کر سکیں گے اور پاسپورٹ پر سٹیکر لگوانے کے بجائے انہیں ای میل کے ذریعے تصدیق موصول ہوگی۔

برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2025 میں برطانوی حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ای ویزہ نظام متعارف کرایا تھا تاہم یہ صرف تعلیمی یا ورک ویزہ تک محدود تھا۔

یہ بھی پڑھیں: دُہری شہریت والوں کے لیے برطانیہ داخلہ ممنوع، ہوم آفس کی وارننگ جاری

جنرل وزیٹر ویزہ کے لیے درخواست دینے والوں کو اب بھی فزیکل ویزہ حاصل کرنا ضروری تھا۔

بدھ کو جاری بیان میں ہائی کمیشن نے کہا کہ وزیٹرز بدستور اپنی درخواستیں آن لائن جمع کرائیں گے اور بائیومیٹرکس فراہم کرنے کے لیے ویزہ درخواست مرکز جانا ہوگا۔

بیان میں کہا گیا کہ کامیاب درخواست گزاروں کو اپنے امیگریشن سٹیٹس کا ڈیجیٹل ریکارڈ ای ویزہ کے ذریعے فراہم کیا جائے گا، جو آن لائن یوکے ویزہ اینڈ امیگریشن اکاؤنٹ کے ذریعے قابلِ رسائی ہوگا۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ ’اس کا مطلب ہے کہ درخواست گزاروں کو اپنا پاسپورٹ وصول کرنے کے لیے دوسری بار ویزہ درخواست مرکز جانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ بایومیٹرکس سیشن کے بعد اپنا پاسپورٹ اپنے پاس رکھ سکیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزار اپنے ویزہ سٹیٹس کو سرحدوں یا دیگر مقامات پر ثابت کرنے کے لیے شیئر کوڈ حاصل کر سکتے ہیں۔ ویزہ پراسیسنگ کے اوقات، اہلیت کے معیار یا شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ کے ورک ویزہ پالیسی میں بڑی تبدیلیاں،دوبارہ جانے پر بھی سخت جانچ پڑتال ہوگی

برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا ہے کہ یہ برطانیہ جانے والے پاکستانیوں کے لیے ’نہایت پُرجوش قدم‘ ہے۔

انہوں نے کہاکہ اپنا پاسپورٹ اپنے پاس رکھنے سے وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ نیا شیئر کوڈ نظام آپ کے ویزہ سٹیٹس کو ظاہر کرنا پہلے سے زیادہ آسان بنا دیتا ہے۔

ویڈیو پیغام میں میریٹ نے کہا کہ ’برطانیہ جانے والے تقریباً تمام وزیٹرز اب سفر کے دوران نئے ای ویزہ سروس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت مسافر اپنا پاسپورٹ اپنے پاس رکھ سکیں گے کیونکہ انہیں اسے جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ’بڑی تبدیلی یہ ہے کہ آپ اپنا پاسپورٹ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور آپ کو دوسری بار ویزہ سینٹر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی (اپنا پاسپورٹ لینے کے لیے)۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ہنر مندوں کے لیے بڑی خوشخبری، اٹلی کا ساڑھے 10 ہزار ویزے دینے کا باضابطہ اعلان

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’درخواست دینے کا عمل اور ٹائم لائنز تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔

2024 میں برطانوی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ملک کا امیگریشن نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل فارمیٹ کی طرف منتقل ہو رہا ہےجس کے تحت فزیکل دستاویزات کو آن لائن امیگریشن سسٹم سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top