ایکشن کمیٹی کا طویل اجلاس اور3ماہ بعد احتجاج کی کال،کہانی آخر کیا ہے؟

جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے طویل اجلاس کے بعد3 ماہ بعد 9 جون کو احتجاج کی کال دیدی ہے جس پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ کیا ایکشن کمیٹی نے حکومت کو مہلت دیدی ہے یا مطالبات سے پیچھے ہٹ گئے ہیں؟

جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا سرساوہ کوٹلی میں طویل اجلاس ہوا جس کے بعدسحری کے وقت اعلامیہ جاری کیا گیا اور حکومت نے 38 نکات پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی 9 جون کو پھر ریاست گیر احتجاج کی کال دیدی

جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے میڈیکل طالبہ فریحہ کی موت کی تحقیقات، تھرڈ پارٹی ایکٹ کے ذریعے بھرتیوں،ای سی ایل میں ڈالے گئے افراد کی فہرست پبلک کرنے کے مطالبات پیش کئے ہیں۔

ایکشن کمیٹی کی ناقص آٹے کی ترسیل کے علاوہ صحت کارڈ پر بھی تحفظات کا اظہار ہے اور مطالبہ کیا ہے ہمارے 38 نکات پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دروازے بھی بند نہیں ہیں۔

حکومت کا پہلے سے دعویٰ ہے کہ ہم مطالبات پر عملدرآمد یقینی بنا رہے ہیں ، اب ایکشن کمیٹی کے اعلان پر لوگوں کی رائے ہے کہ حکومت کو طویل وقت مل گیا ہے چونکہ جون میں تو حکومت کی مدت ہی تقریباً پوری ہوچکی ہوگی کیونکہ25 جولائی کو 5 سال پورے ہو جائیں گے۔

ماضی میں دیکھا جائے توآزادکشمیر میں 2021 اور 2016 کے انتخابات جولائی میں ہی ہوئے اور موجودہ انتخابات بھی جولائی میں ہی ہونے ہیں کیونکہ موجودہ وزیراعظم فیصل راٹھور نے ہی نئے وزیراعظم کو چارج دینا ہے۔

یاد رہے کہ آزادکشمیر میں نگران حکومت نہیں بنائی جاتی، وزیراعظم نئے وزیراعظم کے انتخاب تک برقرار رہتےہیں مگر کابینہ ختم کردی جاتی ہے، تو کیا ایکشن کمیٹی الیکشن کے دوران احتجاج کریگی؟ یہ سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

حیران کن طور پر طویل اجلاس کے بعد اعلامیہ میں ایکشن کمیٹی کی طرف سے مہاجرین ممبر ان اسمبلی کو قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ دینے پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی میں اختلافات؟ سردار عمر نذیر کا ’گارنٹر‘ کی موجودگی سے صاف انکار

جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے جس سے لگتا ہے ، اب ایکشن کمیٹی وفاقی حکومت کیساتھ مذاکرات میں بیٹھے گی۔

فی الحال یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ ایکشن کمیٹی نے لچک دکھائی ہے مگر یہ ضرور ہے کہ ایکشن کمیٹی نے فیصل راٹھور کی حکومت کو وقت ضرور دے دیا ہے۔