سیاسی و سماجی رہنما فرقان گردیزی نے 13 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر نظر آنے میں تو یہ ترمیم بہت بڑی تھی اور اس کا بڑا شور مچایا گیا تھا، لیکن وہ ایک شعر یاد آتا ہے کہ “چھیڑا جو جگر تو دو قطرے خون بھی نہ نکلے”۔ ان کے مطابق اس ترمیم کے اندر اور اس غبارے میں کوئی ہوا نہیں تھی، بلکہ صرف ایک سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے اس وقت یہ تیرہویں آئینی ترمیم کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس ترمیم میں کونسل کے اختیارات محدود کیے گئے اور مالی اختیارات میں ریاست کو خود مختار کیا گیا۔ لیکن آخر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم یہ ساری ایکٹیویٹی اور تگ و دو کس لیے کرتے ہیں؟ ہمارا یہ موقف ہوتا ہے کہ ہم ریاست کی بہتری، ریاست کے عوام کی بہتری اور ریاست کے اداروں کی بہتری کے لیے اس طرح کی پریکٹس کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ تیرہویں ترمیم کے بعد ریاست میں کیا بہتری آئی؟ ریاست کے اداروں میں کیا بہتری آئی؟ اور اس تیرہویں ترمیم سے عوام کو براہ راست کیا فائدہ ہوا؟
یہ بھی پڑھیں:پروپیگنڈا بے بنیاد، آزادکشمیر میں کوئی آئینی ترمیم ریورس ہوگی نہ عوام کو دی گئی سہولیات واپس ہونگی، رانا ثنا اللہ
شور کے برعکس نتائج صفر اور مالی مسائل میں اضافہ:
فرقان گردیزی کا کہنا تھا کہ ان تمام سوالات کا سادہ لو جواب یہ ہے کہ جتنا شور مچایا گیا اور جو اس کے اوپر کہا گیا تھا کہ ریاست اور ریاست کے عوام کو یہ فائدہ دیا جائے گا، اس طرح سے نہ ریاست کو فائدہ ہوا، نہ ریاست کے اداروں کو کوئی فائدہ ہوا اور نہ ہی ریاست کے عوام کو کوئی فائدہ پہنچ سکا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تیرہویں ترمیم میں ٹیکس کی کلیکشن تھی، مالی خود مختاری تھی اور قوانین کے حوالے سے کافی ساری چیزیں شامل تھیں، لیکن اس کا براہ راست ریاست کو تاحال اس طرح کوئی فائدہ نہیں پہنچایا جا سکا۔
انہوں نے وزراء کی تعداد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے مسائل اور وسائل دونوں کا اگر آپس میں موازنہ اور کمپیئر کیا جائے تو ریاست کے اندر وسائل کی شدید کمی ہے جبکہ مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ریاست کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے وسائل کو بڑھاتی اور مسائل کو کم کرتی، لیکن اس کے برعکس ریاست نے اپنے وسائل کم کیے اور اپنے مسائل بڑھائے ہیں۔
13 ویں ترمیم صرف پوائنٹ سکورنگ کے لیے تھی۔
فرقان گردیزی https://t.co/XkQUF5fohh— Kashmir Digital (@KashmirDigital1) November 1, 2026




