حکومت کے نئے ایل پی جی قیمت فارمولے کے خلاف ایل پی جی مارکیٹرز کا فیصلہ!

ایل پی جی مارکیٹرز اور دیگر متعلقہ ایسوسی ایشنز نے حکومت کے نئے قیمتوں کے تعین کے فارمولے کے خلاف 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشنز نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے 15 روز کے اندر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملک بھر میں ایل پی جی کی فروخت اور اس کا تمام کاروبار مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین علی حیدر نے بتایا کہ کراچی میں ہونے والے تمام متعلقہ ایسوسی ایشنز کے ہنگامی اجلاس میں حکومتی فارمولے کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نئے فارمولے کے نفاذ سے ایل پی جی کی قیمتوں میں 25 سے 30 فیصد تک کا بھاری اضافہ ہو سکتا ہے۔

مجوزہ طریقہ کار اور اوگرا کے اختیارات پر تحفظات

علی حیدر کے مطابق مجوزہ طریقہ کار کے تحت سمندری راستے سے درآمد ہونے والی ایل پی جی کی قیمت کو ملک بھر کے لیے معیار بنایا جا رہا ہے، حالانکہ پاکستان میں تقریباً 90 فیصد ایل پی جی باؤزرز کے ذریعے منتقل اور پہنچائی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملک میں مقامی سطح پر پیدا ہونے والی تقریباً 30 فیصد ایل پی جی بھی اس فارمولے کی زد میں آ کر مہنگی ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: عوام پر ایک اور معاشی بوجھ، نومبر کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

دوسری جانب وزارتِ توانائی کی جانب سے ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین کا اختیار اوگرا سے لے کر سرکاری کمپنیوں کو منتقل کرنے کی تجویز بھی زیرِ بحث ہے۔ اس مجوزہ نظام پر تمام کاروباری حلقوں نے شفافیت، آزاد مسابقت اور عام صارفین پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

سرحدی صورتحال اور اوگرا کی سرکاری قیمتیں

ایل پی جی ایسوسی ایشنز کا یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ سرحدی آمدورفت متاثر ہونے کے باعث ملک میں ایل پی جی کی فراہمی اور اس کی قیمتوں پر پہلے ہی شدید دباؤ موجود ہے۔

یاد رہے کہ یکم نومبر کے لیے اوگرا نے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 294 روپے 75 پیسے فی کلو مقرر کی تھی، جبکہ 11.8 کلو کے گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت 3 ہزار 470 روپے طے کی گئی تھی۔ تاہم ڈان کی رپورٹ کے مطابق ملک کی بعض کھلی مارکیٹوں میں ایل پی جی کی قیمت 630 روپے فی کلو تک پہنچنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔