آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے شہریوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور سابق چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمان کی دس سالہ کارکردگی اور حالیہ ریاست مخالف بیانات پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ایوان میں پوری قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
خصوصی گفتگو کے دوران شہریوں نے مولانا فضل الرحمان کے ماضی کے کردار اور حالیہ رویے پر برہمی کا اظہار کیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام اور پوری قوم اب ایسے عناصر کے احتساب کے لیے کھل کر سامنے آ رہی ہے اور مزید خاموش تماشائی نہیں رہے گی۔
“10 سال میں ایک ٹکے کا کام نہیں کیا”
مظفر آباد کے شہری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فضل الرحمان نے بطور چیئرمین کشمیر کمیٹی 10 سال کے طویل عرصے تک صرف سرکاری مراعات کا لطف اٹھایا اور قومی خزانے سے مالی فائدے حاصل کیے۔ شہریوں کے مطابق اتنے اہم قومی اور عالمی نوعیت کے مسئلے پر 10 سال تک کرسی پر براجمان رہنے کے باوجود انہوں نے مال بنانے کے سوا ایک ٹکے کا کام نہیں کیا اور کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر کا سودا:فضل الرحمن کی بھارت سے ہاتھ ملانے کی باریک واردات پکڑی گئی، دی ٹیلی گراف کا انکشاف
ریاست اور پارلیمنٹ سے متعلق شہریوں کا موقف
مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ریاست کے وجود اور اس کے کردار پر تنقید پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں نے واضح کیا کہ ریاست ہے تو سب کچھ ہے، اور ریاست اپنی عوام کے لیے ماں کی مانند ہوتی ہے۔ ان کے مطابق مولانا کا ایسا بیان جس میں ریاست کے اس مقدس رشتے اور حیثیت کی نفی کی گئی ہو، سراسر تضحیک آمیز اور افسوسناک ہے۔
شہریوں نے معاملے کی حساسیت کو اجاگر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فضل الرحمان اپنے اس نامناسب اور تضحیک آمیز رویے پر “فلور آف دا ہاؤس” (پارلیمنٹ کے ایوان) میں کھڑے ہو کر پوری قوم سے بلا مشروط معافی مانگیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ جو بھی عناصر ریاست مخالف بیانیہ بنانے یا قومی اداروں کی تضحیک کرنے کی جسارت کریں گے، انہیں کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور ان کا سیاسی و اخلاقی احتساب لازمی ہونا چاہیے۔




