آزاد کشمیر کے اندر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے منفی کردار اور امن وامان کو نقصان پہنچانے کی کوششوں پر مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف دھڑوں اور شہریوں کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے نام پر خطے میں افراتفری اور انتشار پھیلایا جا رہا ہے جس سے آزاد کشمیر کا پائیدار امن شدید متاثر ہوا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ عناصر حکومت وقت سے فنڈنگ حاصل کرنے کے باوجود ملکی سلامتی اور ریاستی بیانیے کے برعکس زبان استعمال کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر عوام اور حکومتِ وقت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس نام نہاد کمیٹی کا مکمل بائیکاٹ کریں تاکہ خطے کے سیاسی اور سماجی ماحول کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور امن و امان کی بحالی ممکن ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے میں ‘ہندو یہودی گٹھ جوڑ’ پر گہری تشویش،محسن رضائی کا اہم بیان سامنے آگیا
بلیک میلنگ کے خاتمے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ
مختلف رہنماؤ اور شہریوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ایکشن کمیٹی کی مبینہ بلیک میلنگ کا خاتمہ کرنے کا واحد طریقہ ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی اقدام ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امن تباہ کرنے اور ریاستی مفادات کے خلاف کام کرنے پر ان عناصر کے خلاف غداری کے مقدمات درج کیے جائیں اور انہیں عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ مستقبل میں کوئی بھی خطے کے امن سے نہ کھیل سکے۔
بیرونِ ملک مہم اور جمہوری نظام کو بدنام کرنے کے الزامات
مظاہرین اور رہنماؤ نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس کمیٹی کے بعض کارندے اور حمایتی برطانیہ سمیت دیگر بیرونی ممالک میں بیٹھ کر پاکستان اور آزاد کشمیر کے جمہوری نظام کو بدنام کرنے کی منظم مہم چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے چلائی جانے والی یہ مہم نہ صرف ملکی وقار کو مجروح کر رہی ہے بلکہ آزاد کشمیر میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر بھی سوالات اٹھا رہی ہے۔
🚨🚨فسادی کمیٹی امن کی دشمن ہے اور امن تباہ کیا ہوا ہے، یہ لوگ آزاد کشمیر کے دشمن ہیں!! https://t.co/9LgQKiVdCr
— Kashmir Digital (@KashmirDigital1) November 1, 2026




