پروپیگنڈا بے بنیاد، آزادکشمیر میں کوئی آئینی ترمیم ریورس ہوگی نہ عوام کو دی گئی سہولیات واپس ہونگی، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو تعمیر و ترقی کے سفر میں شامل کرنے کے لیے نئی آئینی ترامیم لائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں جاری ترقیاتی عمل یا کسی بھی آئینی ترمیم کو ہرگز ریورس نہیں کیا جا رہا۔

نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سیاست میں اکثر اوقات کسی ایشو پر تلخیاں پیدا ہو جاتی ہیں ،آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہماری تلخیاں ہوتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ریاستی سٹیٹس میں تبدیلی کی باتیں من گھڑت، خلاف حقائق ہیں،افتخارگیلانی

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں کوئی بھی آئینی ترمیم ریورس ہونے نہیں جا رہی اور اس حوالے سے پھیلایا جانے والا تمام تر پروپیگنڈا بے بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کو حقیقی معنوں میں ترقی دینے کے لیے وہاں کی حکومت کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات مل سکیں۔

قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں شیئر کی بات سمیت تمام اہم امور پر سنجیدگی سے بحث جاری ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ملکی تعمیر و ترقی کے سفر میں باقاعدہ شامل کرنے کے لیے آئینی ترمیم پر غور ہو سکتا ہے۔

رانا ثنا اللہ نےیہ بھی واضح کیا کہ اب تک خطے کے عوام کو جو بھی سہولیات دی جا چکی ہیں، ان میں سے کسی بھی سہولت کو مائنس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر محض ایک غلط فہمی کی بنیاد پر گفتگو کر رہے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور ایسا کچھ بھی ہونے نہیں جا رہا۔

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا کہ اب اس دھرنے میں دہشتگرد عناصر بھی باقاعدہ شامل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو عوامی ایکشن کمیٹی ابتدا میں بنائی گئی تھی، اب وہ اپنے پرانے خول سے نکل کر ایک بالکل نئی شکل اختیار کر چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومتِ آزاد کشمیر: بلدیاتی ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں ترمیم، نوٹیفکیشن منظور

رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے محمود خان اچکزئی کو باضابطہ طور پر ملاقات کی دعوت دی ہے۔ اس حوالے سے ملاقات کے مقام یا جگہ کے انتخاب پر کوئی عذر یا جواز پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ محمود خان اچکزئی کو چاہیے کہ وہ وزیراعظم سے جس وقت کا بھی تقاضا کریں یا وقت طے کریں، اس کے مطابق خوش اسلوبی سے ملاقات کریں اور بحیثیت اپوزیشن لیڈر اپنا بھرپور اور فعال کردار ادا کریں۔