واشنگٹن(کشمیر ڈیجیٹل)امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارت کی بڑی آئی ٹی کمپنیوں سمیت متعدد ٹیکنالوجی اداروں کو گرین کارڈزاسپانسر پروگرام معطل کردیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز ، وِپرو، انفوسس، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز،کوگنیزنٹ جیسی بھارتی آئوٹ سورسنگ کمپنیاں پابندی کی زد میں آئیں گی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے مائیکروسافٹ، ایڈوب، اور کیپ جیمینی سمیت کمپنیوں کی نئی مستقل لیبر سرٹیفکیشن درخواستیں قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی خواہش پوری نہ ہوسکی، امن کا نوبیل انعام خاتون وکیل کے نام
اس اقدام کا مقصد مائیکروسافٹ جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو دوٹوک پیغام دیناہے کہ، بھارتی سستے ورکرز کو ہٹا کر امریکی کارکنوں کو ترجیح دینا ہوگی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے کہاہے کہ یہ اقدام ویزا پروگرامز میں مبینہ بے ضابطگیوں اور امریکی شہریوں کی ملازمتوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کے پیش نظر کیا گیاہے۔
امریکی وزیر محنت کیتھ سونڈرلنگ کے مطابق بھارت سمیت غیر ملکی کمپنیوں کی نئی مستقل لیبر سرٹیفکیشن درخواستیں اب کبھی قبول نہیں کی جائیں گی۔
امریکی انتظامیہ کے اس اقدام کے بعد بھارتی سلیکون ویلی اور تکنیکی اداروں سے فارغ التحصیل ہر سال لاکھوں انجینئرزاور گریجویٹس کااب کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران سے تیل تجارت کا الزام : ممبئی کی 2 کمپنیوں،5 بھارتی شہریوں پر پابندیاں عائد
امریکہ کے ان معاشی اقدامات کی وجہ سے بھارت کے اندر مہنگائی، شدید افراط زر اور بے روزگاری کا ایک نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔
روسی تیل کی اندھا دھند خریداری پربھی واشنگٹن کی وارننگز کو نظر انداز کرنے پر امریکہ کی طرف سے بھاری ٹیرف عائدکیاگیاہے۔نئی پابندیاں بھارتی سفارت کاری کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔




