واشنگٹن (کشمیر ڈیجیٹل)امریکہ نے ایرانی خام تیل، پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تجارت میں ملوث 10اداروں، 6افراد اور 5 بحری جہازوں کو پابندیوں کا نشانہ بنا دیا
امریکہ کی جانب سے بھارتی کمپنیوں پر ایرانی حکومت کو مالی فوائد پہنچانے کا الزام عائد کردیا ۔یہ اقدام ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی مہم کو مزید سخت کرنے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ نے ایران سے پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت اور ان کی غیر قانونی درآمد میں معاونت کے الزام میں بھارت کے شہر ممبئی میں قائم دو کمپنیوں اور ان سے وابستہ پانچ بھارتی شہریوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے ممبئی میں قائم ایس ایس پی ایل سلوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ (SSPL Solutions Private Limited) اور سمودرا میرین سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ (Samudra Marine Services Private Limited) کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
امریکی حکام کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں ایران سے پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی درآمد میں معاونت اور ایرانی تیل کی تجارت سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث تھیں۔
امریکی کارروائی کے تحت ایس ایس پی ایل سلوشنز سے وابستہ دو بھارتی شہریوں دھوانی وورا اور نیسارگ وورا کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا بھارت کوجھٹکا، گرین کارڈ اسپانسرشپ پروگرام معطل
جبکہ سمودرا میرین سروسز سے منسلک کیتن کوچیکر، بھوپندر سنگھ ساہو اور ہری شیام ہری ہرن چنڈاکاٹیل پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق متعلقہ افراد کو اپنی کمپنیوں سے منسلک بعض کاروباری اور مالی لین دین میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
ان پابندیوں کا مقصد ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذرائع کو محدود کرنا اور ایرانی حکومت کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔
ایرانی تیل کی تجارت امریکی پابندیوں کی زد میں
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تجارت میں ملوث ہونے کے الزام میں مجموعی طور پر 10 اداروں، 6 افراد اور 5 بحری جہازوں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ۔
اس کارروائی کو ایران کی توانائی کی تجارت سے وابستہ کاروباری اداروں، افراد اور بحری نقل و حمل کے نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے اداروں نے ایرانی حکومت کو لاکھوں ڈالر منتقل کئے۔
امریکی مؤقف کے مطابق ان مالی لین دین سے ایرانی حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوا اور اسے اپنی مبینہ غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے وسائل میسر آئے۔
واشنگٹن طویل عرصے سے ایران کی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تجارت کو اس کی آمدنی کا اہم ذریعہ قرار دیتا آیا ہے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایرانی تیل کی خرید و فروخت، اس کی ترسیل، درآمد اور مالی معاملات میں معاونت فراہم کرنے والے اداروں اور افراد کے خلاف کارروائی کے ذریعے تہران کے مالی وسائل کو محدود کیا جا سکتا ہے۔
بھارتی کمپنیوں اور شہریوں کیلئے ممکنہ اثرات
ممبئی کی دونوں کمپنیوں اور ان سے وابستہ بھارتی شہریوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیے جانے سے ان کی بین الاقوامی کاروباری سرگرمیوں اور مالی لین دین پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔
امریکی پابندیوں کے تحت متعلقہ افراد یا اداروں کے امریکہ میں موجود یا امریکی دائرۂ اختیار میں آنے والے اثاثے، جہاں قابل اطلاق ہوں منجمد کئے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح امریکی شہریوں اور کمپنیوں کے لیے ان کے ساتھ بعض اقسام کے لین دین پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔
تاہم پابندیوں کے عملی اثرات کا انحصار متعلقہ فہرست میں درج افراد اور کمپنیوں کی قانونی حیثیت، امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ مخصوص احکامات اور ان کے مالی و تجارتی روابط پر ہوگا۔
بین الاقوامی تجارت میں سرگرم کمپنیوں کے لیے امریکی پابندیاں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ امریکی مالیاتی نظام یا امریکی کاروباری شراکت داروں سے وابستگی کی صورت میں ان کے تجارتی معاملات متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور کاروباری شراکت دار بھی پابندیوں کی تعمیل کے تقاضوں کے تحت متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔




