مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) وکلاء نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام احتجاجی سرگرمیوں کے باعث متاثر ہونے والے روزمرہ معمولات سے عاجز آ چکے ہیں۔
احتجاج کے نام پر عام شہریوں کی آمدورفت، کاروبار اور معمولاتِ زندگی میں رکاوٹیں پیدا نہیں ہونی چاہئیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پلندری، کالعدم ایکشن کمیٹی مطلوبہ تعداد میں عوام کو سڑکوں پر نہ لا سکی
وکلاء کے مطابق عوامی مسائل کے حل اور مطالبات کی منظوری کیلئے احتجاج جمہوری حق ہے، تاہم اس دوران عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اس انداز میں کی جانی چاہیے کہ شہریوں کو اپنے روزمرہ امور کی انجام دہی، ملازمتوں، کاروبار اور دیگر ضروری کاموں کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وکلاء نے زور دیا کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے ایسے مؤثر اور پُرامن طریقے اختیار کئے جائیں جن سے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
ان کے مطابق احتجاج کے دوران عام لوگوں کے حقوق اور سہولتوں کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اپنے مطالبات کیلئے آواز بلند کرناہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کا مسلح نیٹ ورک تشکیل، بھارتی رابطوں، اسلحہ خریداری کا انکشاف
انہوں نے کہا کہ متعلقہ فریقین کو چاہیے کہ وہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں تاکہ عوام کو غیر ضروری پریشانی سے بچایا جا سکے اور معمولاتِ زندگی بھی معمول کے مطابق جاری رہیں۔




