عوام کیلئےبڑی خبر،دودھ کی قیمت میں بھاری اضافے کا مطالبہ

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن نے دودھ کی قیمت میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر نئی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی اپیل کردی۔

ایسوسی ایشن کے رہنما شاکر عمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ڈیری فارمرز کیلئے موجودہ نرخ پر دودھ کی فروخت جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے، اس لیے قیمت کے تعین میں مزید تاخیر ناقابل برداشت ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم قیمتیں بڑھنے کے آفٹر شاکس،مہنگائی شرح میں ہوشربا اضافہ

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فارمر کے لیے دودھ کا ایکس فارم ریٹ کم از کم 277 روپے فی لیٹر مقرر کیا جائے، جبکہ صارفین کیلئے اس کی قیمت میں 70 روپے اضافے کے بعد 310 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔

شاکر عمر کے مطابق محکمہ لائیو اسٹاک سندھ کی جانب سے دودھ کی پیداواری لاگت تقریباً 262 روپے فی لیٹر ظاہر کی گئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بچھڑے کی مد میں منہا کیے جانے والے 15 روپے بھی شامل کیے جائیں تو دودھ کی حقیقی پیداواری لاگت 277 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کا متعلقہ محکمہ خود پیداواری لاگت 262 روپے فی لیٹر تسلیم کر رہا ہے تو فارمرز کو 215 روپے فی لیٹر کے نرخ پر دودھ فروخت کرنے پر کیسے مجبور کیا جاسکتا ہے؟۔

ڈیری فارمرز کے رہنما نے بتایا کہ اس وقت فارمر کیلئے سرکاری ایکس فارم ریٹ 215 روپے فی لیٹر جبکہ صارفین کیلئے سرکاری قیمت تقریباً 240 روپے فی لیٹر ہے۔

ان کے مطابق خوراک، چارہ، ونڈا، اجناس، بجلی، مزدوری، ادویات اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔شاکر عمر نے کہا کہ دودھ کی قیمت حقیقی پیداواری لاگت اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر مقرر کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کمشنر کراچی سید حسن نقوی سے مطالبہ کیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کا فوری اجلاس طلب کرکے دودھ کی نئی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلسل خسارے کے باعث ڈیری فارمرز جانور فروخت کرنے اور اپنے فارم بند کرنے پر مجبور ہورہے ہیں، جس سے مستقبل میں دودھ کی پیداوار متاثر ہونے اور ڈیری سیکٹر سے سرمایہ نکلنے کا خدشہ ہے۔

ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ رواں ہفتے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

اس موقع پر دودھ کی سرکاری پیداواری لاگت، فارمرز کو ہونیوالے نقصانات اور 277 روپے ایکس فارم جبکہ 310 روپے ریٹیل قیمت مقرر کرنے کے مطالبے کی بنیاد سے متعلق دستاویزی شواہد بھی پیش کیے جائیں گے۔

شاکر عمر کے مطابق اگر حکام نے مسئلے کے حل کیلئےسنجیدہ اقدامات نہ کیے تو ڈیری فارمرز پُرامن احتجاج، دھرنے اور علامتی احتجاج سمیت دیگر جمہوری اقدامات پر غور کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا فارمرز کا آئینی اور جمہوری حق ہے، تاہم ایسوسی ایشن کی اولین ترجیح مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے مسئلے کا حل ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ملک بھر میں مہنگائی کا طوفان، سبزیاں، پھل، گوشت اور آٹا مزید مہنگے

ان کے بقول ڈیری فارمر محفوظ اور معاشی طور پر مستحکم ہوگا تو ہی دودھ کی پیداوار اور شہریوں کو اس کی مسلسل فراہمی برقرار رکھی جاسکے گی۔