پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت تصادم چاہتی ہے ،قمر زمان کائرہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کے طرزِ سیاست سے تصادم کا تاثر پیدا ہورہا ہے ۔

منڈی بہاؤالدین میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ممکن ہے پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت یہ سمجھتی ہو کہ تصادم کی سیاست اس کیلئے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں سیاسی قوتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا لانگ مارچ خیبرپختونخوا تک ہی محدود رہے گا:رانا تنویر

انہوں نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ فریقین مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔

ان کے مطابق حالیہ مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے خاصی لچک کا مظاہرہ کیا گیا، تاہم پی ٹی آئی کے بعض ایسے رہنما جو مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں تھے، ان کی جانب سے مختلف مؤقف سامنے آنے کے باعث بات چیت ڈیڈلاک کا شکار ہوئی۔

پیپلز پارٹی رہنما نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں سیاسی کشیدگی کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی اور اگر معاملات تصادم کی طرف گئے تو اس کے نتیجے میں بڑے نقصان کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ملک اور جمہوری نظام کیلئے بہتر ہوگا۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج آئینی و قانونی اختیارات ہیں، تاہم وہ ذاتی طور پر ان اقدامات کو پسندیدہ نہیں سمجھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بھی لانگ مارچ کرتے رہے ہیں، جبکہ موجودہ وزیراعلیٰ کو شاید اس سے آگے بڑھ کر سیاسی کردار ادا کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے دو صوبے پہلے ہی دہشت گردی کے باعث سنگین صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایسے میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ مسائل کو پیچیدہ کرسکتا ہے۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی سیاسی رہنما کی ہٹ دھرمی کے باعث مذاکراتی عمل ناکام ہوتا ہے تو ریاست کو امن و امان برقرار رکھنے  کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی، پی ٹی آئی دشمن کی پراکسی ، انتشار پھیلا رہی ہیں،طلال چوہدری

تاہم ان کے مطابق ترجیح ہر صورت میں مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کو دی جانی چاہیے۔