وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو ایک اور موقع دینا چاہتی ہے جبکہ عوام کے تحفظ کیلئے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا آپشن بدستور موجود ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کی تجاویز کو اہمیت دی اور ان کے کہنے پر ڈرافٹ میں کئی مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مذاکرات اور مکالمے سے ہی مسائل کا حل ممکن ہے : امیر مقام
ان کے مطابق مذاکرات کے دوران یہ بات شامل نہیں کی گئی کہ 72 گھنٹوں کے اندر خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کردی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کا مقصد صوبے میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کرنا نہیں، بلکہ موجودہ صورتحال کو مذاکرات اور باہمی تعاون کے ذریعے بہتر بنانا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے متعلق بھی ایک تجویز مذاکرات کا حصہ تھی، تاہم اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت کا مقصد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنا ہوتا تو صوبائی حکومت کیساتھ مذاکرات کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال اور عوام کے تحفظ کو اولین ترجیح حاصل ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے تمام آئینی اور قانونی آپشنز زیر غور ہیں۔
امیر مقام نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ایک اور موقع دیا جا رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں ترقی کا دور دورہ ہوگا، دھرنوں اور احتجاج سے مسائل حل نہیں ہوتے، وفاقی وزیر امیر مقام
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام کے تحفظ کے حوالے سے صورتحال مزید خراب ہوئی تو وفاقی حکومت کے پاس ایمرجنسی سمیت دیگر اقدامات کا اختیار موجود ہے۔




