مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد 12 ساتھیوں سمیت 3پی سی او کے تحت نظر بند ہیں ۔
خواجہ فاروق احمد نے سینٹرل جیل مظفرآباد کے قیدیوں کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جیل کی عمارت کو مکمل کیا جائے تاکہ مکانیت کی کمی کی وجہ سے ایک ایک بیرک میں ضرورت ، گنجائش سے زیادہ قیدی نہ رکھے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ جیل کے اندر لاک اپ کا شیڈول تبدیل کیا جائے ، شام 5بجے سے اگلی صبح ساڑھے 6 بجے تک ایک ہی بیرک میں گنجائش سے زیادہ قیدی تاکہ نہ رکھے جائیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر: ایکشن کمیٹی کی ہڑتال بے اثر،تجارتی مراکز کھلے رہے
انہوں نے کہا کہ دن کے اوقات میں قیدیوں کو آزادی سے جیل کے اندر گھومنے کی سہولت ہو ، قیدیوں کو ہنر سکھانے ، دستکاری ، الیکٹریشن ، ویلڈر وغیر کے کورسز کرانے کی طرف بھی توجہ دی جائے تاکہ سزا پوری کرنے کے بعد وہ معاشرے کا ایک باعزت شہری بن سکیں۔
خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ قیدیوں کیلئے کھانے کے معیار کو بہتر بنایا جائے ، اور موجودہ اوقات کو دن کا کھانا 11 بجے اور رات کا کھانا 3 بجے دیا جاتا ہے جو کسی بھی صورت مناسب نہ ہے ، سٹاف کی کمی کو پورا کیا جائے۔
انہوں نے کہ اکہ بیرکس کے اندر قیدیوں کو میٹریس فراہم کیے جائیں کہ ایک دو چادروں میں ننگے سیمنٹ والے فرش پر رات گزارنی مشکل ہے ، طبی سہولیات کے حوالے سے بھی بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
خواجہ فاورق احمد نے کہا کہ پہلے ہر ضلع کا ڈسٹرکٹ سیشن جج بار کے نمائندوں کے ساتھ جیل کا دورہ کیا کرتا تھا، اس سے بھی کافی جیل کے نظام میں بہتری آ جایا کرتی تھی ، اس سلسلے کو بحال کیا جائے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور:سیکٹر بی ٹو اور بی فور مسائل کا گڑھ:شہری کونسلر چوہدری رزاق پر برس پڑے
خواجہ فاروق احمد نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس صاحبان اگر خود دورہ کریں تو زیادہ بہتر ہو گا، سیکرٹری جیل خانہ جات ، آئی جی جیل خانہ جات اور متعلقہ وزیر بھی جیلوں کا وقتاً فوقتاً دورہ کیا کریں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بیرک میں اگر ٹی وی کی سہولت مل جائے تو مناسب ہو گا، پینے کے صاف پانی کیلئے واٹر فلٹر پلانٹ جیل کے اندر بہت ضروری ہے کہ موجودہ مہیا کردہ پانی سے بیمارہونے کا ہر وقت خدشہ رہتا ہے ، حکمرانوں کو ملزم اور مجرم کا فر ق بھی سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کل اور آج کے حکمران بھی ہماری طرح پی سی تھری کے تحت راڑہ جیل میں آ سکتے ہیں، اس لیے جیلوں کے حالات کو بہتر بنائیں ، سزا یافتہ قیدیوں کو معاشرے کا ایک مفید شہری بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔




