واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی ہے کہ اگر ایران رواں ہفتے پیش آنے والے فلائی دبئی واقعے سے منسلک پایا گیا تو تہران کو بہت سخت نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اماراتی پرواز میں کپتان پر چاقو سے حملہ کرنیوالے کوپائلٹ کو ایران سےجوڑنے کی کوشش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیموکریٹس جیت گئےتو مہنگائی بڑھے گی،امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل ٹرمپ کی نئی وارننگ
صحافیوں سے گفتگو کرتے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے اور مبینہ طور پر واقعے میں ملوث پائلٹ کا ایران سے تعلق ہو سکتا ہے۔
اس سوال پر کہ آیا پاسداران انقلاب نے کوپائلٹ کو وہاں بھیجا تھا یا وہ خود ہی انتہاپسندی کا شکار ہوا تھا، صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ممکن ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران رواں ہفتے پیش آنے والے فلائی دبئی واقعے سے منسلک پایا گیا تو فکر نہ کریں، ایران پر بہت سخت حملہ کیا جائے گا۔
اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کوپائلٹ کا کسی طرح ایران سے تعلق ہے۔
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا معاملہ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں نیچے آنا شروع ہو جائیں گی، اور یہ معاملہ تقریباً ابھی ختم ہو چکا ہے۔ ہم آبنائے ہرمز سے جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ تیل نکال رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران یا تو ایک انتہائی منصفانہ معاہدے پر دستخط کرے گا یا پھر اس کا وجود مزید باقی نہیں رہے گا۔
ادھر امریکا نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائیوں کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں 10 ہزار اضافی فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئی تعیناتی میں بحری جہازوں کے دو بڑے گروپس شامل ہوں گے۔اس اقدام سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کھولنے کی7 شرائط پر امریکی جواب ایران کو موصول
امریکی حکام کے مطابق تعینات کیے جانے والے فوجیوں میں 7 ہزار سے زائد سیلرز اور 2 ہزار سے زائد میرینز شامل ہیں۔ان میں یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ بھی شامل ہے۔
یو ایس ایس میکن آئی لینڈ ایمفی بیئس ریڈی نیس گروپ بھی خطے کی جانب روانہ کیا جارہا ہے۔نئی فوجی تعیناتی کے بعد اکتوبر کے اختتام تک مشرق وسطیٰ میں تین امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے موجود ہوسکتے ہیں۔
یہ صورتحال خطے میں امریکی بحری اور فضائی موجودگی میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔




