اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عامر ڈوگر نے واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ حکومتی وفد سے مذاکرات میں ہمارا بنیادی مطالبہ کیا ہو گا ۔؟
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عامر ڈوگر نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کی تیاری جاری ہے، تاہم تمام سرگرمیاں آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی واٹس ایپ گروپ کی چیٹ لیک، لانگ مارچ موخر کرنے پر کارکنان قیادت پر برس پڑے
حکومتی وفد سے مذاکرات کے بعد ہی لانگ مارچ کے حوالے سے آئندہ کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ 27 ستمبر کا لانگ مارچ ملتوی کرکے حکومت کو وقت دیا گیا تھا اور آج حکومتی وفد سے ملاقات کے بعد صورتحال مزید واضح ہوجائے گی۔
حکومت کی جانب سے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے رابطہ کیا گیا ہے، جبکہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں لانگ مارچ کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن کو انگیج کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ وفد سے آج ملاقات ہوگی ، رانا ثنا اللہ نے بھی رابطہ کیا ہے۔
عامر ڈوگر نے کہا کہ ہمارامطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی تک ڈاکٹرز کو رسائی دی جائے، ان سے ملاقات کی اجازت ہو اور آئین کی عمل داری یقینی بنائی جائے۔
اگر حکومت کی نیت درست ہے تو ان مطالبات کو تسلیم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ بانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی مطالبہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پختونخوا میں گنڈاپور کی دوبارہ انٹری؟ بانی پی ٹی آئی کا سہیل آفریدی کیلئے پیغام آگیا
عامر ڈوگر نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق معاملات پر تحریک انصاف کی وکلاء ٹیم نے غور کیا ہے۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے ملک میں تناؤ بڑھے گا، جبکہ دہشتگردی اور بے روزگاری پہلے ہی بڑے مسائل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کا مینڈیٹ کچلا گیا تو اس سے نفرت بڑھے گی۔ لانگ مارچ کی وجہ سے1 ہزار سے زائد افراد کو اٹھایا گیا ہے جبکہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں کارکنان نظر بند ہیں۔




