پی ٹی آئی واٹس ایپ گروپ کی چیٹ لیک، لانگ مارچ موخر کرنے پر کارکنان قیادت پر برس پڑے

پاکستان تحریک انصاف سے منسلک ایک واٹس ایپ گروپ کی چیٹ منظر عام آگئی جس میں لانگ مارچ موخر ہونے کارکنان قیادت کو برا بھلا کہہ رہے ہیں اور گالم گلوچ بھی کررہے ہیں۔

مبینہ لیک ہونے والی گفتگو میں بعض کارکن پارٹی قیادت کے فیصلوں پر کھل کر برہمی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ بعض نے لانگ مارچ کے التوا کو کارکنوں کے لیے مالی اور انتظامی مشکلات کا باعث قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پختونخوا میں گنڈاپور کی دوبارہ انٹری؟ بانی پی ٹی آئی کا سہیل آفریدی کیلئے پیغام آگیا

مبینہ وائس چیٹ میں داؤد چکدرہ نے صوبائی قیادت، خصوصاً سہیل آفریدی کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے لانگ مارچ دوبارہ مؤخر کیے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

اسی گفتگو میں اسماعیل خان نے بھی بار بار تاریخ تبدیل کیے جانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ احتجاجی پروگرام کے حوالے سے کارکنوں کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

مالی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل خان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے احتجاج کے لیے تقریباً 100 افراد کا انتظام کیا تھا اور ان کے اخراجات اپنی جیب سے برداشت کیے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر لانگ مارچ دوبارہ مؤخر ہوتا ہے تو پہلے سے کیے گئے انتظامات کے اخراجات کون ادا کرے گا ؟۔

چیٹ میں شعیب سجاد پی ٹی آئی کے نام سے موجود ایک رکن نے بھی پارٹی قیادت کے فیصلوں پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

انہوں نے گزشتہ احتجاجی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کو پارٹی کے لیے افراد لانے کا کہا جاتا ہے لیکن بعد میں ان کے اخراجات کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا ۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا مارچ کیلئے لوگوں کو تربیت دیئے جانیکا انکشاف،آڈیو نے بھانڈہ پھوڑ دیا

گفتگو کے دوران بعض کارکنوں نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے حوالے سے بھی الزامات اور سیاسی فیصلوں پر اعتراضات کا اظہار کیا۔

حبیب اللہ نے بھی مالی ذمہ داری کا سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے لیے آنے والے کارکنوں کے اخراجات بالآخر انہیں اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑتے ہیں اس لیے قیادت کو کارکنوں کے مالی مسائل کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

مبینہ وائس چیٹ کے اختتام پر بھی قیادت کے خلاف سخت اور نازیبا زبان استعمال کی گئی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گروپ کے بعض ارکان میں پارٹی کی صوبائی قیادت کے فیصلوں پر کتنا غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔