مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بڈگام کے یوسمرگ علاقے میں قابض بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ایک نوجوان کے مارے جانے کے بعد واقعے اور مقتول کی شناخت کے حوالے سے سوالات اٹھ گئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کوراگ، یوسمرگ کے علاقے میں انٹیلی جنس اطلاع پر قابض بھارتی فوج، پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے مشترکہ محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔
قابض بھارتی فوج نے ہلاکت کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران اہلکاروں نے مشتبہ نقل و حرکت دیکھی اور افراد کو خبردار کیا، جس پر مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔ فوج کے مطابق اس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک شخص مارا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی نے اپنے ہی 4 ساتھی اہلکاروں کو بھون ڈالا
قابض بھارتی فوج نے اسی علاقے میں 5 ستمبر کو بھی ایک کارروائی کے دوران یاسر نامی کشمیری نوجوان کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔
قابض بھارتی افواج کی جانب سے بڈگام، بارہمولہ، راجوری اور پونچھ اضلاع کے مختلف علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
مقامی باشندوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سلسلہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قابض بھارتی فوج اور نیم فوجی دستے اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہمراہ بعض نوجوانوں کو علاقوں سے باہر یا تفتیشی مراکز سے لاتے ہیں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران انہیں عسکریت پسند قرار دے کر ہلاک کردیتے ہیں۔
بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے بڑی تعداد میں فوجی تعینات کر رکھے ہیں، جس کے باعث یہ خطہ دنیا کے زیادہ عسکری دباؤ والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
مقبوضہ علاقے میں بھارتی افواج آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) جیسے قوانین کے تحت بھی کارروائیاں کرتی ہیں۔ انسانی حقوق کے حلقے طویل عرصے سے ان قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ اور احتساب کے فقدان پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔
بھارتی حکومت پر مقبوضہ علاقے میں آزادی کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو دبانے اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ حیثیت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
دوسری جانب نوجوان کی شناخت کے حوالے سے بھی مختلف نام سامنے آئے ہیں۔ بھارتی حکام نے اسکی شناخت سلیمان شاہ عرف موسیٰ کے طور پر کی ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں اسے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ اور موسیٰ فوجی بھی بتایا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی جعلی مقابلوں میں شہید کیے جانے والے نوجوانوں کی شناخت کے حوالے سے متضاد نام سامنے آتے رہے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق اس عمل کا مقصد مبینہ طور پر نوجوانوں کو پاکستان سے منسلک عسکریت پسندوں کے طور پر پیش کرنا ہوتا ہے۔
یہ معاملہ جولائی 2025 میں سری نگر کے علاقے میں ہونے والی ایک کارروائی کے بعد بھی سامنے آیا تھا، جب بھارتی فوج کے اہلکاروں نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران جعلی مقابلے میں 3 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا تھا۔
ان نوجوانوں میں سے ایک کی شناخت سلیمان شاہ عرف ہاشم موسیٰ کے طور پر ہوئی تھی، جس کا نام پہلگام حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کے نام سے مماثل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایل او سی پر بھارتی فوج کالعدم ایکشن کمیٹی کی ویڈیوز بڑی سکرین پرچلانے لگی
سری نگر کے اس واقعے میں شہید ہونے والے دیگر 2 نوجوانوں کی شناخت حبیب طاہر عرف ابو حمزہ اور یاسر عرف جبران کے طور پر کی گئی تھی۔
بڈگام میں پیش آنے والے تازہ واقعے نے ایک بار پھر مقبوضہ جموں و کشمیر میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران ہونے والی شہادتوں کے حالات پر سوالات اٹھا دیے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب کشمیری حلقے طویل عرصے سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کے مطالبے کے ساتھ ساتھ جعلی مقابلوں، حراستی اموات اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
ان واقعات میں ہلاک ہونے والے کشمیریوں کی شناخت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔




