اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ نے کہا ہے کہ فیول ریلیف اسکیم کے تحت 58 لاکھ افراد رجسٹریشن کراچکے ہیں جبکہ 61لاکھ ٹوکن جاری کیے جاچکے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت پورے ملک سے لوگ فیول ریلیف سکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: موٹرسائیکل سواروں کیلئے ریلیف اسکیم شروع کرنے کی منظوری
ہر صوبے کے اعداد و شمار بھی آرہے ہیں کہ کس کس صوبے سے لوگ آرہے ہیں اور ٹوکن استعمال کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے باعث پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہورہی ہیں جس کا اثر پاکستان پر بھی پڑرہا ہے۔ اس مشکل صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے سبسڈی کے حوالے سے جو سکیم شروع کی تھی، اس کا کامیابی سے اجرا ہوچکا ہے اور یہ جاری ہے۔
شزہ فاطمہ نے کہا کہ 2 وہیلر، 3 وہیلر یعنی تمام موٹر سائیکلیں، رکشے، چنچیاں اور 800 سی سی تک کی گاڑیاں اسکیم کا حصہ ہیں۔
موٹر سائیکل، رکشے اور چنگچی کے صارفین اگر ان کے مالک نہ بھی ہوں اور صرف استعمال کرتے ہوں تو اپنے رجسٹرڈ فون نمبر اور شناختی کارڈ کے ذریعے ایک بار رجسٹریشن کراکے اس موٹر سائیکل یا رکشے پر یہ سہولت حاصل کرسکتے ہیں، جبکہ گاڑیوں کے مالکان اسکیم کا حصہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل، رکشے اور چنگچی کے لیے 500 روپے کا ٹوکن ہفتے میں ایک بار ملتا ہے۔
اب اس پر 5 لیٹر کی پابندی نہیں ہے، جتنا بھی پٹرول ڈلوایا جائے گا، اس پر 500 روپے کی رعایت ملے گی۔ گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے 10 لیٹر پر ہر ٹوکن کے ذریعے رعایت دی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کا مقصد مشکل صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا تھا۔ پوری کابینہ نے اس سلسلے میں تعاون کیا جبکہ نائب وزیراعظم اس کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی صدارت کررہے ہیں اور حمزہ شہباز بھی اس معاملے کو ذاتی طور پر دیکھ رہے ہیں۔
شزہ فاطمہ نے کہا کہ حمزہ شہباز نے ایک اجلاس کیا اور مزید اجلاس بھی کررہے ہیں تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ زمینی سطح پر پیٹرول اسٹیشنز پر شہریوں کو کسی قسم کی دقت تو نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:فیول ریلیف اسکیم پر عمل نہ کرنے والے پمپس کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت
انہوں نے پیٹرول پمپ مالکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان سے گزارش ہے کہ موٹر سائیکل سواروں کو رجسٹریشن کرانے میں مدد کریں اور انہیں اسکیم کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ پوری قوم مل کر اس مشکل سے نکل سکے اور یہ سہولت سب سے زیادہ مستحق افراد تک پہنچ سکے۔
انہوں نے کہا کہ 58 لاکھ افراد اب تک رجسٹریشن کراچکے ہیں جبکہ 61 لاکھ ٹوکن جاری کیے جاچکے ہیں۔
ان اعداد و شمار کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ 8 دنوں کے اندر اسکیم کو چلانا ایک مشکل کام تھا، تاہم اوگرا، اسٹیٹ بینک، پٹرولیم ڈویژن، وزارت خزانہ، وزیراعظم آفس اور دیگر اداروں نے مل کر اسے ممکن بنایا۔




