بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس کے کارکنوں نے نئی دہلی سمیت بھارت کی کم از کم 12 ریاستوں میں احتجاج کیا۔ مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے لگائے اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے پوسٹرز اٹھا رکھے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں کاکروچ پھر سڑکوں پر آنے کو تیار، 48گھنٹوں کی ڈیڈلائن دیدی
نئی دہلی میں سیکڑوں مظاہرین نے پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں پر چڑھ کر احتجاج کیا، جبکہ بعض مقامات پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔
احتجاج کی کال نوجوانوں کی تحریک کاروکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے دی گئی ہے، جس نے کہا ہے کہ اگر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ہفتے تک مستعفی نہ ہوئے تو 2 اکتوبر کو پورے بھارت میں احتجاج کیا جائے گا۔ دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی احتجاج کی حمایت کررہی ہیں۔
کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مل کر ووٹر فہرستوں میں ردوبدل کررہا ہے تاکہ بی جے پی کو ریاستی انتخابات میں فائدہ پہنچایا جاسکے۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
احتجاج اس رپورٹ کے بعد شروع ہوا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے نائبین نے ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے معاملے پر ان سے سوالات کیے ہیں۔
کانگریس رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ وہ 3 سال سے ووٹ چوری کی نشاندہی کررہے ہیں اور اب الیکشن کمشنرز خود اسے تسلیم کررہے ہیں۔
راہول گاندھی نے گیانیش کمار پر غداری کا الزام عائد کرتے ہوئے ان سے فوری استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔
الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ کسی بھی ادارے میں افسران کے درمیان اختلافات معمول کی بات ہیں اور کمیشن کے تمام اقدامات قانون کے مطابق ہیں۔
بی جے پی نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کی مقبولیت کے باعث انتخابات ہارنے پر الزام تراشی کررہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ترک صدر نے جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کے حق میں جاندار آواز اٹھا دی، بھارتی میڈیا تلملا اٹھا
بھارت کی 28 ریاستوں میں سے متعدد ریاستوں میں کانگریس کارکنوں نے گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ ایک مقام پر ان کا اور نریندر مودی کا پتلا بھی نذر آتش کیا گیا۔
اگلے سال اتر پردیش اور گجرات سمیت کئی ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کو 2029 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل سیاسی حمایت جانچنے کے اہم مواقع قرار دیا جارہا ہے۔




