واشنگٹن: چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا اور ایران اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی طرف واپس آئیں۔
امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔وائٹ ہاؤس پہنچنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی خاتونِ اوّل نے صدر شی اور ان کی اہلیہ کا استقبال کیا۔
یہ بھی پڑھیں:چینی صدر اہم دورہ پر امریکا پہنچ گئے، ٹرمپ نے خاتون اول کے ہمراہ استقبال کیا
صدر ٹرمپ سے ملاقات میں چینی صدر نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران ایک جامع معاہدے تک پہنچیں گے جس میں ایٹمی معاملہ اور دیگر معاملات کا تصفیہ بھی شامل ہو گا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیاکہ امریکا اور ایران اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی طرف واپس آئیں۔
چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی جانب واپس آئیں۔
چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ چین نے ہمیشہ یہ مؤقف اپنایا ہے کہ تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے، چین متعلقہ فریقوں کو پُرامن حل کے لیے اپنے عزم پر قائم رہنے کی ترغیب دیتا رہا ہے۔
اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے چینی صدر کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، چین کے ساتھ متوازن تجارتی تعلقات قائم کرنے کےلیے کام کر رہے ہیں، سکیورٹی اور اے آئی سے متعلق اہم امور پر بھی بات کی جائے گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور چین کے بہتر مستقبل کے لیے چینی صدر کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات باہمی احترام اور عوامی مفادات کی بنیاد پر قائم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ بمقابلہ شی جن پنگ،چینی صدر کے خصوصی طیارے کی دلچسپ حقیقت سامنے آگئی
اس سے پہلے چینی صدر شی جن پنگ کے امریکا پہنچنے پر امریکی صدر ٹرمپ نے صدارتی پروٹوکول کے برخلاف خود ائیرپورٹ جا کر ان کا خیرمقدم کیا ۔
چینی صدر کے لیے سو فٹ طویل سرخ قالین بچھایا گیا ، دونوں ملکوں کے قومی ترانوں کی دھنیں بجائیں گئیں۔چینی صدر کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی ، فوجی طیاروں کا فلائی پاسٹ ہوا۔




