پاکستان نے جموں و کشمیر سے متعلق بھارت کے بے بنیاد دعوے مسترد کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی تکمیل کا وعدہ پورا کرے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد ضروری ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر نے واضح کیا کہ بھارت کے نام نہاد نقشوں اور خودمختاری کے دعووں کا کشمیر کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
پاکستان نے عالمی برادری سے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور غیر قانونی قبضہ کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیر جنگلات وقار احمد نور اہم دورے پر میرپور پہنچ گئے ، افسران کو اہم ہدایت جاری
مقبوضہ جموں و کشمیر تنازع سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر حل طلب تنازعات میں شامل ہے،حتمی فیصلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہونا ہے۔
کشمیری عوام کی خواہشات کا اظہار آزادانہ و غیر جانب دارانہ استصواب رائے سے ہوگا،اقوام متحدہ کے نقشوں میں جموں و کشمیر کو متنازع خطہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پاکستان نے بھارت کے شہر سہارنپور میں صدیوں پرانی مسجد مسمار کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھارتی مسلمانوں کے خلاف مبینہ منظم کارروائیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کے شہر سہارنپور میں صدیوں پرانی مسجد کو 5 ستمبر کو شہید کیا گیا، جس پر پاکستان نے گہری تشویش اور شدید مذمت کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ تاریخی مسجد کی مسماری اسلاموفوبیا اور ہندوتوا پر مبنی مہم کا ایک اور مظہر ہے۔ تاریخی اسلامی ورثے کو مٹانے کے لیے بھارت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات قابل مذمت ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حویلی:آٹے کا بحران شدت اختیار کرگیا،شہری دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور
پاکستان نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی مبینہ بے حرمتی اور مسماری کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے جبکہ بھارتی حکام کو اقلیتوں کی مذہبی آزادی اور ان کے ثقافتی و مذہبی ورثے کے خلاف اقدامات پر جوابدہ بنایا جائے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بابری مسجد کی 1992 میں مسماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ مذہبی عدم برداشت اور نفرت کی ایک مستقل علامت ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ منظم کارروائیوں کا نوٹس لے اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق اور آزادی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
ترجمان کے مطابق مذہبی مقامات اور تاریخی اسلامی ورثے کا تحفظ مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا اہم حصہ ہے، اس لیے بھارتی حکام کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو مذہبی کشیدگی اور عدم برداشت کو مزید فروغ دیں۔




