محمد یوسف

پاکستانی ٹیم کی ناقص کارکردگی، محمد یوسف کی کوچز پر کڑی تنقید ، کھیل کیلئے ’’زہر‘‘ قرار دیدیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے قومی ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی اور کھلاڑیوں کی تکنیکی خامیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کوچنگ اسٹاف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

محمد یوسف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بابراعظم کے انگلینڈ کے خلاف آؤٹ ہونے کی ایک پرانی اور حالیہ ٹیسٹ میچ کی ویڈیو شیئر کی۔

اپنی پوسٹ میں سابق کپتان نے کہا کہ انہوں نے کئی سال قبل ہی بابراعظم کی بیٹنگ میں موجود تکنیکی خامی کی نشاندہی کر دی تھی اور اس حوالے سے خبردار بھی کیا تھا تاہم بدقسمتی سے بابر اعظم اور دیگر کھلاڑیوں کے گرد موجود بعض نام نہاد کوچز نے انہیں اپنی خامیوں پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اُس وقت ان تکنیکی مسائل پر توجہ دی جاتی تو انہیں آسانی سے دور کیا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہ ہونے کے باعث یہ خامیاں وقت کے ساتھ سنگین مسئلہ بن گئیں۔ محمد یوسف نے کہا کہ انہی مسائل کو بروقت حل نہ کرنے کا نتیجہ آج پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:لارڈز ٹیسٹ: امام الحق پر جعلی انجری اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا سنگین الزام

سابق کپتان نے کوچز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض کوچز کرکٹ کیلئے زہر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے کوچز میں مستقبل کو دیکھنے کی صلاحیت اور مناسب وژن کا فقدان ہوتا ہے، جبکہ وہ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بجائے ان کی ترقی میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

محمد یوسف نے کہا کہ باصلاحیت کھلاڑیوں کو بھی بعض اوقات غلط مشورے اور نامناسب رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، جس کا اثر ان کی کارکردگی اور کیریئر پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کرکٹرز کو بھی مشورہ دیا کہ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کس شخص کی بات سننی ہے اور کس کے مشورے پر عمل کرنا ہے۔

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ اگر کھلاڑی درست رہنمائی حاصل کرنے اور مناسب مشورے پر عمل کرنے میں ناکام رہے تو ان کے کیریئر اس مدت سے کہیں پہلے اختتام پذیر ہو سکتے ہیں جتنی مدت تک انہیں کھیلنا چاہیے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ کے لیے روانہ، سیریز کا شیڈول جاری

محمد یوسف نے مزید کہا کہ پاکستانی کرکٹرز کی تکنیکی خامیاں اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہیں اور بنگلا دیش سے لے کر انگلینڈ تک مختلف ٹیموں کے خلاف یہ کمزوریاں نمایاں طور پر سامنے آ چکی ہیں۔