لارڈز ٹیسٹ: امام الحق پر جعلی انجری اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا سنگین الزام

سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران قومی کرکٹ ٹیم کے اوپنر امام الحق پر ‘جعلی انجری’ کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے ان کے رویے پر شدید تنقید کی ہے۔ محمد وسیم کا کہنا ہے کہ معمولی کھنچاؤ کی بنیاد پر میدان سے باہر جانے کی یہ ‘ڈرامے بازی’ پہلے بھی ہو چکی ہے، جس کے بعد اب کرکٹ حلقوں میں اس معاملے پر شدید بحث اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق لارڈز ٹیسٹ کے دوران اس وقت ایک نیا تنازع کھڑا ہوا جب قومی اوپنر امام الحق نے پنڈلی میں تکلیف کی شکایت کی۔ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کھلاڑی کا اسکین کروایا، تو میڈیکل رپورٹ میں صرف ایک معمولی نوعیت کا کھنچاؤ ہی سامنے آیا۔ اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس قسم کا رویہ اور ڈرامے بازی ماضی میں بھی کی جا چکی ہے۔

نوجوان کھلاڑی پر دباؤ اور فرار کی کوشش:

کرکٹ حلقوں اور کھیل کے مبصرین کی جانب سے امام الحق پر اس وقت سخت تنقید کی گئی جب وہ میدان میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے اور اسٹرائیک ڈیبیو کرنے والے نوجوان کھلاڑی اذان اویس کے حوالے کر دی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر انجری کا بہانہ بنا کر اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کی کوشش کی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بے پناہ تجربہ رکھنے کے باوجود، انہوں نے بنگلادیش، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ جیسی اہم سیریز میں بھی پہلی گیند کا سامنا کرنے سے گریز کیا اور ہر بار مشکل وقت میں نوجوان اذان اویس کو آگے دھکیل دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ کے لیے روانہ، سیریز کا شیڈول جاری

بدترین ریکارڈ اور فیلڈنگ میں خامیاں:

اگر امام الحق کی حالیہ کارکردگی کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال مزید مایوس کن دکھائی دیتی ہے۔ گزشتہ 8 ٹیسٹ میچوں کی دوسری اننگز میں قومی اوپنر کا ریکارڈ انتہائی بدترین رہا ہے۔ وہ ان اننگز میں محض دو بار ڈبل فگر میں داخل ہو سکے ہیں اور 5.5 کی انتہائی کم اوسط کے ساتھ کل 45 رنز ہی بنا پائے ہیں۔ بیٹنگ میں ناکامی کے ساتھ ساتھ، انہوں نے فیلڈنگ کے دوران سلپ کی اہم پوزیشن پر کیچز بھی گرائے، جس نے ٹیم کی مجموعی پوزیشن کو مزید نقصان پہنچایا۔

کرکٹ کی تاریخ ایسے بے شمار جری کھلاڑیوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے ٹوٹی ہوئی انگلیوں اور فریکچر شدہ ہڈیوں کے باوجود بیٹنگ کر کے بہادری کی لازوال مثالیں قائم کی ہیں۔ ان عظیم کھلاڑیوں نے شدید درد کے باوجود اپنی ٹیم کے لیے جان لڑا دی، لیکن اس کے برعکس، امام الحق ایک معمولی کھنچاؤ کی بنیاد پر بیٹنگ کے لیے آنے سے کتراتے رہے۔ یہ رویہ اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب ہم ان کے حالیہ ٹیسٹ ریکارڈ اور سلپ میں ڈراپ کیے گئے کیچز کو دیکھتے ہیں، جو ان کے اعتماد میں واضح کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

پیشہ ورانہ رویے اور کیریئر پر سوالات:

یہ واقعہ محض ایک ٹیسٹ میچ کی کارکردگی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سینیئر کھلاڑی کے رویے، دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت اور ٹیم کے تئیں اس کی لگن پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ٹیم کو مضبوط اور مستحکم آغاز کی اشد ضرورت ہوتی ہے، تجربہ کار اوپنر کا خود کو بچا کر ایک نئے ڈیبیو کرنے والے کھلاڑی کو تن تنہا مشکل صورتحال میں دھکیلنا کسی بھی زاویے سے قائدانہ یا پیشہ ورانہ رویہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

جدید کرکٹ میں جہاں کھلاڑیوں کی ذہنی اور جسمانی فٹنس کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، وہاں معمولی کھنچاؤ کو جواز بنا کر میدان چھوڑنا کھیل سے وابستگی کو مشکوک بناتا ہے۔ سابق چیف سلیکٹر کے بیانات سے یہ پیغام بھی واضح ہوتا ہے کہ مینجمنٹ اور ڈریسنگ روم میں اس قسم کے غیر پیشہ ورانہ رویوں کو اب نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔ اگر اس رویے میں تبدیلی نہ آئی، تو یہ صورتحال مستقبل میں اوپنر کے کیریئر کے لیے شدید خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: لارڈز ٹیسٹ، کپتان بابر اعظم کی واپسی، محمد رضوان ،سلمان آغا برقرار، سعود شکیل ڈراپ