مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر نے حالیہ انتخابی سرگرمیوں اور پارٹی پالیسی کے تناظر میں اپنے بعض رہنماؤں کیخلاف تنظیمی کارروائی کرتے ہوئے تین رہنماؤں کو شوکاز نوٹس جاری کردئیے جبکہ تین دیگر رہنماؤں کی بنیادی پارٹی رکنیت منسوخ کر دی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل میر عتیق الرحمٰن کی جانب سے جاری کردہ کارروائی کے مطابق توصیف عباسی، چوہدری محمد عارف اور سید ثقلین شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ متعلقہ رہنماؤں سے پارٹی معاملات اور حالیہ انتخابی سرگرمیوں کے حوالے سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
دوسری جانب پارٹی قیادت نے راجہ فہیم فاروق، سردار بابر رزاق خان اور راجہ الیاس خان کی بنیادی پارٹی رکنیت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی حالیہ سیاسی و انتخابی سرگرمیوں میں پارٹی نظم و ضبط اور تنظیمی پالیسی سے متعلق معاملات کے پیش نظر عمل میں لائی گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طبیعت ٹھیک اور وہ صحتمند ہیں، طلال چوہدری
واضح رہے کہ راجہ فہیم فاروق کا معاملہ حالیہ دنوں میں سیاسی حلقوں میں خاص طور پر زیرِ بحث رہا۔ انتخابات سے قبل وہ استحکام پارٹی کے نامزد اُمیدوار تھے، تاہم بعد ازاں انہوں نے انتخابی دوڑ سے دستبردار ہوتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے اُمیدوار راجہ فیصل آزاد کے حق میں دستبرداری اختیار کر لی تھی۔
پی ٹی آئی آزادکشمیر کی جانب سے حالیہ تنظیمی کارروائی کو پارٹی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور انتخابی معاملات میں پارٹی پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم شوکاز نوٹس کا سامنا کرنے والے رہنماؤں کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع دیا گیا ہے، جس کے بعد پارٹی قیادت کی جانب سے مزید فیصلہ متوقع ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آزادکشمیر میں حالیہ انتخابی سرگرمیوں کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں اور اُمیدواروں کے درمیان سیاسی صف بندیاں تبدیل ہونے سے کئی حلقوں میں سیاسی صورتحال غیر معمولی طور پر متحرک رہی ہے۔ ایسے میں جماعتوں کی جانب سے اپنے امیدواروں اور عہدیداروں کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلے آئندہ سیاسی منظرنامے پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر الیکشن : پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کو سپورٹ کیا: خواجہ آصف
پی ٹی آئی آزادکشمیر کی تازہ کارروائی کے بعد پارٹی کے اندر بھی سیاسی و تنظیمی سطح پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ سیاسی حلقے ان فیصلوں کو آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے اہم قرار دے رہے ہیں۔




