نیپال اور چین کے تبت کے درمیان ہمالیائی سرحدی علاقے میں مٹی، چٹانوں اور پانی کے بڑے ریلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں نیپال میں درجنوں افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں سیاح اور مقامی افراد لاپتا ہوگئے۔
حکام کے مطابق اب تک 157 لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں تاہم ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون بارشیں؛ مختلف شہروں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ، سیلاب کی وارننگ
غیرملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرحدی علاقے میں مٹی اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا تودہ دریا میں جاگرا جس کے بعد اچانک آنے والے سیلاب نے مکانات، سڑکوں، گاڑیوں اور بجلی کے منصوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
متاثرہ علاقوں سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں لوگوں کو سیلابی ریلے سے بچنے کیلئے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ کئی افراد تیز پانی اور ملبے میں بہہ گئے۔
نیپال کے وزیراعظم کے دفتر کے مطابق 157 لاشیں برآمد ہوئی ہیں جن کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ 484 سیاح لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد میں 391 غیرملکی اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔
A massive mudslide struck Gyirong Port on the China-Nepal border, with CCTV footage showing a wall of debris slamming through the crossing in seconds, tossing vehicles and buses.
Nepal reports at least 8-16 dead with hundreds of travelers listed as missing, including 291… pic.twitter.com/ZXfDIUaGsC
— Clash Report (@clashreport) August 26, 2026
نیپال کی وزارت سیاحت کے مطابق لاپتا غیرملکیوں میں 100 سے زائد بھارتی، 3 امریکی اور 12 برطانوی شہری شامل ہیں۔
حکام کے مطابق متاثرہ علاقہ تبت میں واقع معروف مذہبی مقام کیلاش مانسروور جانے والے راستے پر واقع ہے جہاں ہر سال بڑی تعداد میں بھارتی اور دیگر ممالک کے ہندو یاتری سفر کرتے ہیں۔
چین کی جانب سے بھی بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاع دی گئی ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق تبت کے گیریونگ علاقے میں 3 افراد ہلاک جبکہ 265 لاپتا ہیں۔
جنوبی کوریا نے بتایا ہے کہ ہائیڈرو پاور منصوبے پر کام کرنے والے اس کے 8 شہری لاپتا ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق علاقے میں آنے والے 4.4 شدت کے زلزلے نے ممکنہ طور پر گلیشیئر کے نچلے حصے کے انہدام کو متحرک کیا، جس کے نتیجے میں برف، چٹانوں اور ملبے پر مشتمل سیلابی ریلہ دریائے لہینڈے میں داخل ہوا۔
سیٹلائٹ تصاویر کے ابتدائی جائزے کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ سرحدی گزرگاہ سے تقریباً 20 کلومیٹر شمال مشرق میں پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان،الرٹ جاری
متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہےتاہم بعض پہاڑی علاقوں میں شدید تباہی کے باعث امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
سڑکیں، مواصلاتی نظام اور بجلی کی تنصیبات تباہ ہونے سے کئی علاقوں کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
چین نے نقصان کا جائزہ لینے کیلئے ڈرونز روانہ کردیئے ہیں جبکہ ریسکیو آپریشن کیلئے طیارے، ہیلی کاپٹر اور دیگر سامان تیار رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب سیلابی پانی کے بھارت کی جانب بڑھنے کے خدشے کے پیش نظر اتر پردیش اور بہار میں بھی الرٹ جاری کردیا گیا ہے، بہار میں تقریباً 5 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے جبکہ مزید 10 سے 12 ہزار افراد کے انخلا کی تیاری کی جارہی ہے۔




