نیپال میں بدھ کی صبح محسوس کئے جانے والے شدید جھٹکے کے بارے میں امریکی جیولوجیکل سروے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ زلزلہ نہیں تھا۔
نجی ٹی وی کے مطابق صبح 8 بج کر 37 منٹ پر نیپال اور چین کی سرحد کے قریب دارالحکومت کھٹمنڈو کے شمال میںزلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:نیپال میں سیلاب کئی دیہات بہا لے گیا،157ہلاک، سیکڑوں لاپتہ ،غیر ملکی سیاح بھی شامل
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی جیولوجیکل سروے نے ابتدائی طور پر ان جھٹکوں کو 4.4 شدت کے زلزلے کے طور پر رپورٹ کیا تھاتاہم اب وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ زلزلے کے بجائے ایک غیر معمولی طور پر طاقتور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی جس کی وجہ سے زمین لرزنے کے جھٹکے پیدا ہوئے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کی رپورٹ کے مطابق برف اور چٹانوں کا ایک بڑا تودہ پہاڑی ڈھلوان سے نیچے گرا اور لھینڈے کھولا دریا میں جا گرا۔
یہ دریا آگے چل کر بھوٹے کوشی دریا سے ملتا ہے جو چین سے نیپال کی جانب بہتا ہے اور کئی مقامات پر گہری وادیوں سے گزرتا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق اس لینڈ سلائیڈنگ سے پیدا ہونے والی لرزش اتنی شدید تھی کہ اسے 5.2 شدت کے زلزلے کے برابر ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ بعض اوقات اتنی توانائی خارج کر سکتی ہے کہ اس کے نتیجے میں زلزلے جیسی زمین کی لرزش محسوس ہوتی ہے تاہم اس کی وجہ زیرِ زمین ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت نہیں بلکہ زمین، چٹانوں اور برف کے بڑے پیمانے کا اچانک حرکت کرنا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مون سون بارشیں؛ مختلف شہروں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ، سیلاب کی وارننگ
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب نیپال کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب کے باعث بھی صورتحال تشویشناک ہے۔
حکام کو پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب اور دیگر قدرتی خطرات کے باعث اضافی احتیاط کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔




