حویلی کہوٹہ (بیورو رپورٹ) انتخابی نتائج میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی جعلسازی اور ردوبدل کے خلاف مسلم لیگ ن حویلی کہوٹہ اور امیدوار چوہدری محسن عزیز اور آزاد امیدوار ممبر کشمیر کونسل خواجہ طارق سعید کے سپورٹرز کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔
سیز فائر لائن کے قریب ترین علاقوں سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک پورے حویلی کہوٹہ تک پھیل گئی، سیز فائر لائن کی قریب ترین علاقوں اخوڑی، دیگوار، کیرنی مندھار، ہیلاں، خورشید آباد اور بھیڈی سمیت مختلف علاقوں میں احتجاج، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کے باعث معمولات زندگی متاثر رہے۔
ضلعی ہیڈکوارٹر حویلی کہوٹہ میں بھی مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام جاری ہے۔ چوہدری محسن عزیز کے حامیوں نے ان کے انتخابی مینڈیٹ میں ردوبدل اور نتائج تبدیل کرکے پیپلز پارٹی کے امیدوار و وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کو کامیاب ظاہر کرنے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے متنازع نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیںطیب کریم کی تجویز پر پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام ’’جناح ون‘‘ رکھ دیا
محسن عزیز کی رہائش گاہ پر ہزاروں افراد کا دھرنا جاری ہے۔ مسلم لیگ ن حویلی کہوٹہ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد کسی سیاسی جماعت سے محاذ آرائی نہیں بلکہ حلقہ ایل اے 17 کے اصل انتخابی مینڈیٹ کا تحفظ اور پولنگ اسٹیشنز کے اصل نتائج سامنے لانا ہے۔
ان کے مطابق درجنوں پولنگ اسٹیشنز کے پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے موقع پر جاری کیے گئے نتائج اور پولنگ ایجنٹس کو فراہم کردہ فارم ان کے پاس محفوظ ہیں جنہیں سامنے لا کر اصل اور تبدیل شدہ نتائج کا تقابلی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
مسلم لیگ ن کا مطالبہ ہے کہ حلقہ ایل اے 17 کے تمام انتخابی تھیلے فوری طور پر کھولے جائیں، ہر پولنگ اسٹیشن کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی جائے اور پریزائیڈنگ افسران کے جاری کردہ اصل نتائج کی بنیاد پر حتمی نتیجہ مرتب کیا جائے۔
اسی سلسلے میں چوہدری محسن عزیز نے فارم 24 میں ٹمپرنگ کے خلاف چیف الیکشن کمشنر کو باقاعدہ درخواست بھی دے رکھی ہے، جسے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے آج 13 اگست کو صبح 10 بجے الیکشن کمیشن آفس مظفرآباد میں سماعت مقرر کی گئی۔
محسن عزیز نے اپنے وکلا راجہ سجاد ایڈووکیٹ اور چوہدری غلام نبی ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست میں اور سماعت کے دوران آج یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کے پاس تمام پولنگ اسٹیشنز کے پریزائیڈنگ افسران کے جاری کردہ اصل نتائج موجود ہیں جن کے مطابق وہ تقریباً 8600 ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے تھے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حویلی الیکشن دھاندلی کیس: الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا
تاہم ان کے مطابق ریٹرننگ افسر کے پاس موجود نتائج میں نمایاں فرق ہے۔ محسن عزیز نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو بھی ری کاؤنٹنگ کا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شفاف دوبارہ گنتی میں وہ بھاری اکثریت سے کامیاب نہ ہوئے تو سیاست چھوڑ دیں گے۔
دوسری جانب انتخابی تنازع کے دوران آزاد امیدوار خواجہ طارق سعید کے چیف سپورٹرز کے خلاف مقدمات کے اندراج نے بھی صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر کے پی آر او تجمل قریشی کی درخواست پر خواجہ طارق سعید کے حامیوں کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں جن میں چیئرمین یونین کونسل چھانجل یوسف قریشی، ان کے دو بیٹوں، کونسلر ٹھولانگر عنصر بٹ، خواجہ زاہد اقبال، خواجہ شفیق اور سجاد میر کے نام شامل ہیں۔
مقدمات پر خواجہ طارق سعید نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے حامیوں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آرز کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو تحصیل خورشید آباد سمیت پوری حویلی بند کر دیں گے اور اس کی ذمہ داری وزیراعظم آزاد کشمیر پر عائد ہوگی جبکہ حویلی کی کشمیری برادری نے بھی صورتحال پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
مسلم لیگ ن حویلی کہوٹہ اور چوہدری محسن عزیز کے حامیوں نے واضح کیا ہے کہ جب تک انتخابی تھیلوں کی شفاف دوبارہ گنتی، اصل پولنگ ریکارڈ کی جانچ اور مبینہ نتائج میں ردوبدل کی تحقیقات نہیں کی جاتیں، احتجاج جاری رہے گا، جبکہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔




