جنیوا(کشمیر ڈیجیٹل) نائب صدر پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر اور عالمی یوتھ و پائیدار ترقی کے وکیل سید ذیشان حیدر کاظمی نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز جنیوا میں منعقدہ اے آئی گلوبل سمٹ فارڈویلپنگ ممالک” میں خصوصی شرکت کی۔
مختلف اعلیٰ سطحی سیشنز میں عالمی رہنماؤں، ماہرین، سفارتکاروں، پالیسی سازوں اور نوجوان نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔

سمٹ کے دوران اپنے مختصر خطاب میں سید ذیشان حیدر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسانی ترقی، تعلیم، صحت، روزگار، شفاف حکمرانی اور سماجی انصاف کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ اس تک رسائی منصفانہ اور سب کے لیے مساوی ہو۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حویلی: الیکشن نتائج کیخلاف محسن عزیز،طارق سعید کے سپورٹرز سڑکوں پرآگئے
انہوں نے کہا کہ اگر اے آئی صرف چند طاقتور ممالک اور بڑی کمپنیوں تک محدود رہی تو دنیا میں ڈیجیٹل عدم مساوات مزید بڑھے گی۔ ترقی پذیر ممالک، پسماندہ خطوں اور نوجوان نسل کواے آئی کی تعلیم، تحقیق، اختراع اور عملی استعمال کے برابر مواقع دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سید ذیشان حیدر نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا، کشمیر اور دیگر محروم خطوں کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے حامل ہیں، لیکن وسائل، تربیت اور عالمی رسائی کی کمی ان کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔
انہوں نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ اے آئی کے میدان میں Capacity Building، Youth Innovation Funds، Digital Infrastructure، اور Ethical AI Frameworks پر خصوصی توجہ دی جائے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ AI کو غربت میں کمی، معیاری تعلیم، بہتر صحت، ماحولیاتی تحفظ، شفاف اداروں اور نوجوانوں کے بااختیار بنانے کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حویلی الیکشن دھاندلی کیس: الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا
سید ذیشان حیدر نے جنیوا میں موجود بین الاقوامی مندوبین سے ملاقاتوں کے دوران جموں و کشمیر میں انسانی حقوق، نوجوانوں کے مواقع، تعلیم، ڈیجیٹل شمولیت، اور پائیدار ترقی کے مسائل بھی اجاگر کیے اور کہا کہ تنازعات سے متاثرہ خطوں میں ٹیکنالوجی کو امن، مکالمے اور انسانی فلاح کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی اس وقت تک حقیقی ترقی نہیں لا سکتی جب تک اس کا فائدہ عام انسان تک نہ پہنچے۔سمٹ میں شرکت کرنے والے مختلف مندوبین نے نوجوانوں کی نمائندگی، ترقی پذیر ممالک کے نقطہ نظر اور AI کے اخلاقی و سماجی پہلوؤں پر سید ذیشان حیدر کے خیالات کو سراہا۔




