بھارت میں سرکاری بھرتیوں کے لیے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ تحریک مشرقی ریاست جھاڑکھنڈ تک پھیل گئی ہے، جہاں ہزاروں طلبہ نے سول سروس امتحان دوبارہ لینے اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جھاڑکھنڈ میں احتجاج کا آغاز 25 جولائی کو ہوا، جو 4 روز بعد شدت اختیار کرگیا، جب مظاہرین نے ریاستی دارالحکومت رانچی کے ایک اسٹیڈیم میں غیر معینہ مدت کے دھرنے کا آغاز کیا۔
یہ بھی پڑھیں:نئی دہلی میں شیخ حسینہ کی میڈیا گفتگو پر بنگلہ دیش شدید برہم، بھارتی اقدام کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دے دیا
طلبہ کا مطالبہ ہے کہ اپریل میں ہونے والا ابتدائی سول سروس امتحان منسوخ کرکے دوبارہ منعقد کیا جائے، جبکہ ریاست میں مختلف بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات مرکزی تحقیقاتی ادارے سے کرائی جائیں۔
مظاہرین نے ایسے معاملات کی سماعت کے لیے تیز رفتار عدالت کے قیام کا بھی مطالبہ کیا ہے۔احتجاج اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ ماہ امتحانی نتائج جاری ہونے کے بعد کچھ امیدواروں نے دعویٰ کیا کہ آن لائن گردش کرنے والی جوابی شیٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کامیاب امیدواروں نے توقع سے کم سوالات کے جواب دیے، جس سے امتحانی عمل میں مبینہ تبدیلیوں کے خدشات پیدا ہوئے۔
جھاڑکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا ہے کہ الزامات کی تحقیقات جاری ہیں اور طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ریاستی جرائم تحقیقاتی شعبہ امتحانی عمل کی جانچ کر رہا ہے، جس میں اس ادارے کے انتخاب کے معاملے کی بھی تحقیقات شامل ہیں جس پر ماضی میں بے ضابطگیوں کے الزامات لگ چکے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اب تک ایک درجن سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جھاڑکھنڈ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین ایل کھیانگتے نے 22 جولائی کو استعفیٰ دے دیا تھاجبکہ کمیشن نے بعد ازاں مرکزی امتحان بھی ملتوی کردیا۔
بھارت میں طلبہ تحریک کو اس وقت مزید توجہ ملی جب نئی دہلی میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف نوجوانوں کی ایک بڑی تحریک کے بعد 25 جولائی کو بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دیا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت آزادکشمیرپرسیاست سے باز رہے،پروپیگنڈا پھیلا کرمسئلہ کشمیر سے توجہ نہیں ہٹا سکتا،دفترخارجہ
نوجوانوں کی تحریک ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ نے بھی جھاڑکھنڈ کے مظاہرین کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک غیر رجسٹرڈ سیاسی گروپ ہے، جس کی 36 روزہ مہم امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف طنزیہ احتجاج سے شروع ہوئی تھی اور بعد میں روزگار کے مواقع اور تعلیمی نظام سے متعلق نوجوانوں کی شکایات کی بڑی تحریک بن گئی۔
تحریک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ انسٹاگرام میمز، طنزیہ ویڈیوز اور دیگر ڈیجیٹل مواد کے ذریعے تعلیم میں اصلاحات اور احتساب کے مطالبات کو اجاگر کررہے ہیں۔




