ڈھاکہ : بنگلہ دیش نے نئی دہلی میں نجی میڈیا کلب کے زیر اہتمام سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو میڈیا سے براہ راست گفتگو کا موقع دیے جانے پر بھارت سے شدید ترین سفارتی احتجاج درج کرایا ہے। ڈھاکہ نے شیخ حسینہ کے خطاب کو قومی خودمختاری، عوامی جذبات اور جولائی انقلاب کے شہدا کی صریح توہین قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
شیخ حسینہ کی گفتگو پر ڈھاکہ کا سخت ردعمل:
بنگلہ دیشی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام اور حکومت میں اس بات پر شدید غصہ اور گہرا افسوس پایا جاتا ہے کہ شیخ حسینہ کو بھارتی سرزمین سے میڈیا سے براہ راست بات چیت کرنے کی اجازت دی گئی। بیان میں کہا گیا کہ گفتگو کے دوران سابق وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں نے بنگلہ دیشی ریاست اور عوام کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز اور توہین آمیز زبان استعمال کی۔
سرکاری اعلامیے میں شیخ حسینہ کے لیے “مفرور سزا یافتہ مجرم” اور “اجتماعی قتل کی مرتکب” جیسے غیر معمولی اور سخت الفاظ استعمال کیے گئے۔ وزارت خارجہ نے انکشاف کیا کہ تقریب کے انعقاد سے قبل ہی بھارتی حکومت کو اپنے تحفظات سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا اور خبردار کیا گیا تھا کہ شیخ حسینہ کو سیاسی سرگرمی یا عوامی خطاب کا موقع دینے سے تعلقات کی بحالی کو نقصان پہنچے گا۔ تاہم، تمام تر تحفظات کے باوجود نئی دہلی میں جنوبی ایشیا کے غیر ملکی نامہ نگاروں کے ایک نجی کلب کے زیر اہتمام تقریب ہوئی جہاں انہوں نے آڈیو رابطے سے صحافیوں سے گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب میں بچے کے پیچھے دوڑ، جو بائیڈن پر طنز اور حاضرین کے قہقہے
’جولائی انقلاب کے شہدا کی توہین‘:
وزارت خارجہ نے تقریب کی ٹائمنگ پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس دن بنگلہ دیشی قوم جولائی انقلاب کی دوسری برسی منا رہی تھی، ٹھیک اسی دن بھارتی سرزمین سے شیخ حسینہ کا خطاب بنگلہ دیش کی خودمختاری کے خلاف اقدام ہے। بیان میں مزید کہا گیا کہ 2024 کے جولائی انقلاب نے ملک کا سیاسی رخ متعین کر دیا ہے اور عوام واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی آمریت، سیاسی جبر یا کسی دوسرے ملک پر انحصار کرنے والے نظام کو دوبارہ قبول نہیں کریں گے۔
شیخ حسینہ کا موقف اور اقوام متحدہ کی رپورٹ:
میڈیا سے گفتگو کے دوران شیخ حسینہ نے دسمبر 2026 تک بنگلہ دیش واپس جانے کے ارادے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سزائیں یا گرفتاری کا خطرہ انہیں وطن واپسی سے نہیں روک سکتا। انہوں نے اپنی پارٹی عوامی لیگ پر سے پابندی ختم کرنے اور زیر حراست کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، جبکہ 2024 کی ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے عدالتی کارروائیوں کو سیاسی انتقام قرار دیا۔
بنگلہ دیشی حکومت نے شیخ حسینہ کے اس موقف کو رد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کی فروری 2025 کی تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق یکم جولائی سے 15 اگست 2024 کے دوران مظاہرین پر تشدد اور سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے تقریباً 1,400 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، جن میں 12 سے 13 فیصد بچے تھے۔ رپورٹ کے مطابق سابقہ حکومت اور عوامی لیگ کے عناصر کی جانب سے مظاہرین کو دبانے کے لیے منظم اور پرتشدد حکمت عملی اختیار کرنے کے معقول ثبوت ملے ہیں۔
سزائے موت اور حوالگی کا تنازع:
واضح رہے کہ نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کے بین الاقوامی جرائم ٹریبونل نے 2024 کی تحریک کے دوران مظاہرین کے خلاف مہلک کارروائیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم پر شیخ حسینہ کو ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت اور عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ اس نے 28 جنوری 2013 کو طے پانے والے باہمی معاہدے کے تحت شیخ حسینہ کی واپسی کے لیے بھارت کو متعدد باضابطہ درخواستیں بھیجی ہیں، مگر اب تک کوئی حتمی جواب موصول نہیں ہوا۔ ڈھاکہ کے مطابق ایک طرف مجرم کی حوالگی پر خاموشی اور دوسری طرف انہیں میڈیا گفتگو کا پلیٹ فارم مہیا کرنا انتہائی متضاد رویہ ہے۔
بھارت کی وضاحت اور باہمی تعلقات کا مستقبل:
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے وضاحت کی کہ اس تقریب کا اہتمام ایک نجی میڈیا ادارے نے کیا تھا اور بھارتی حکومت کا اس سے کوئی تعلق یا توثیق نہیں ہے۔ تاہم، بنگلہ دیش نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات خودمختار برابری، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر استوار ہونے چاہئیں۔
شیخ حسینہ جو 5 اگست 2024 کو اپنی 15 سالہ حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت منتقل ہوئی تھیں، ان کا معاملہ اب دونوں ممالک کے سفارتی اور اسٹرٹیجک تعلقات کا بڑا امتحان بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس تنازع کا دیرپا حل خاموشی کے بجائے شفاف سفارتی مذاکرات اور حوالگی کی درخواست پر واضح فیصلے میں مضمر ہے۔
Bangladesh is outraged that the absconding convicted genocider Sheikh Hasina was allowed this evening to engage in live interaction with the media in New Delhi where she and her henchmen launched venomous vitriol against the State of Bangladesh and her people.
Dhaka deeply… pic.twitter.com/7BDnAxk5N8
— Ministry of Foreign Affairs (@BDMOFA) August 5, 2026




