اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اگر مسلح جتھے کی صورت میں مظفرآباد پر چڑھائی کریں گے تو ہر طریقے سے روکا جائے گا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ مظاہرین راولاکوٹ بیٹھے ہیں تو بیٹھے رہیں، ہمیں کوئی ایشو نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:راولاکوٹ : کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی عوام دشمن غنڈہ گردی! بھاری درخت گرا کر سڑکیں بلاک کر دیں
انہوں نے کہا کہ دھرنے کے دوران اموات ہوئی ہیں اس حوالے سے میں کوئی حتمی تعداد نہیں بتا سکتا لیکن جب 2سے 3بارانہوں نے آگے بڑھنے کی کوشش فورسز نے انہیں روکا جس سے دونوں اطراف سے نقصان ہوا جو تقریباً ڈبل فگر پر ہے۔400اموات کا دعویٰ محض پروپیگنڈا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ فورسز دہشتگردوں سے انگیج ہوئی ہیں، میڈیا کو وہاں کیسے رسائی دی جاسکتی ہے؟
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگ دہشتگرد نہیں تھے،یہ سلسلہ9جون سے چلا،اس سے قبل جب بھی انہوں نے احتجاج کیا حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم کئے اور انہوں نے خوشی سے احتجاج ختم کیا۔ہم لوگوں سے کہہ رہے ان کا ساتھ چھوڑ دیں۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا ان لوگوں کو سپورٹ کررہا ہے، ان کو فنڈنگ خدابہتر جانتا ہے کہاں سےآرہی ہےاتنی، ہمارا تو یہی خیال ہے کہ وہ براہ راست سامنے نہ ہو لیکن اتنی فنڈنگ وہاں سے آسکتی ہے باقی کسی جگہ سے نہیں آسکتی ۔
راناثنااللہ کا کہنا تھا کہ فی الحال سٹیٹ کی پالیسی نہیں معاملہ کو سامنے لایا لیکن اس کو کسی اور فورم پر سامنے لانا بہتر سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی اپنے اصل ایجنڈے پر آ گئی، سردار امان کے بیان نے سب پول کھول دی
انہوں نے کہا مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ اسمبلی کے علاوہ کوئی پورا نہیں کرسکتا، مہاجرین کو مائنس کرنے سے تحریک آزادی جموں وکشمیر نہیں رہی گی بس یہی آزادکشمیر کا حصہ رہ جائیگا، ہم نے انہیں کہا تھا الیکشن لڑیں اسمبلی میں آکر معاملہ حل کرلیں۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ معاملے کا حل الیکشن ہی ہے، ایک منتخب قیادت حکومت بنا لیتی ہے تو معاملہ حل ہو جائیگا۔




