واشنگٹن (کشمیر ڈیجیٹل) امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ زمینی فوج کی تعیناتی پر غور شروع کر دیا ہے، جبکہ اس مقصد کیلئے امریکی پیرا ٹروپرز کی تربیت بھی جاری ہے۔
سینٹ کام کے مطابق پیرا ٹروپرز مشرق وسطیٰ میں ممکنہ تعیناتی کے پیش نظر مختلف ہتھیاروں اور آپریشنل مہارتوں کی خصوصی تربیت حاصل کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سردار تبارک اور میاں خالد محمود ڈٹ گئے ، الیکشن لڑنے کا اعلان
سینٹ کام نے مزید بتایا کہ امریکی فوج کا چنوک ہیلی کاپٹر بھی مشرق وسطیٰ میں آپریشنل تعیناتی کی تیاری کر رہا ہے۔
بیان کے مطابق چنوک ہیلی کاپٹر ہر قسم کے موسمی اور جغرافیائی ماحول میں اہلکاروں، فوجی سازوسامان اور رسد کی نقل و حمل کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے اور امریکی فوج کی فضائی نقل و حرکت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ امریکی کارروائیوں پر غور کیا جا رہا ہے جس میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آئل ٹینکروں کے لیے محفوظ راستہ حاصل کرنا شامل ہے، یہ مشن بنیادی طور پر فضائی اور بحری افواج کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حویلی، عباسپورمیں الیکشن کی تیاریاں مکمل، سدھنوتی میں زیرغور، چیف الیکشن کمشنر
لیکن آبنائے کو محفوظ بنانے کا مطلب ایران کے ساحل پر امریکی فوجیوں کی تعیناتی بھی ہو سکتا ہے، دو امریکی حکام سمیت چار ذرائع نے کہا۔ رائٹرز نے فوجی منصوبہ بندی کے بارے میں بات کرنے کے لیے ذرائع کو نام ظاہر نہ کرنے کی اجازت دی۔




