آزادکشمیر کی موجودہ صورتحال پربی بی سی کی رپورٹ مسترد،الزامات حقائق کے منافی،سیکرٹری اطلاعات

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل )سیکرٹری اطلاعات آزاد کشمیر محمد راشد حنیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی کی جانب سے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر جاری رپورٹ خلافِ حقائق، مستردکرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بی بی سی کی رپورٹ میں پیش کئے گئے حقائق اور اعداد و شمار نہ صرف غلط ہیں بلکہ انہیں کسی بھی حکومتی ادارے، یعنی پولیس اور سول ایڈمنسٹریشن، سے تصدیق یا تردید کئےبغیر جاری کیا گیا جو صحافتی آداب اور پروفیشنلزم کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پشاور ہائیکورٹ: واپڈا ملازمین کو مانیٹری الائونس دینے کا حکومتی فیصلہ قانونی قرار

سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے راولاکوٹ اور اس کے مضافات میں 27 تا 31 جولائی کو پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے لگائے گئے الزامات جھوٹے، گمراہ کن اور منظم مس انفارمیشن پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بی بی سی کے الزامات حقائق کے منافی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیخلاف مسلح جتھوں کی منظم کارروائیوں کے ذریعے امنِ عامہ اور ریاستی رٹ کو ختم کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی حالیہ مسلح کارروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شہید اور زخمی ہوئے جبکہ پولیس اور رینجرز کی گاڑیوں کو بھی جلایا گیا اور نقصان پہنچایا گیا۔

راشد حنیف نے کہا کہ کالعدم کمیٹی کے ارکان کے پاس اسلحہ کی موجودگی کے شواہد 27 جولائی کو نمائندہ اے جے کے پولیس مظفرآباد کی پریس کانفرنس میں پیش کئے جا چکے ہیں۔

ان کے مطابق انہی ہتھیاروں کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سات اہلکار شہید، 45 سے زائد زخمی اور متعدد معمولی زخمی ہوئے، جو اس بات کی تصدیق ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی اپنے اندر بڑی تعداد میں مسلح عناصر کو پناہ دیئے ہوئے ہے اور ریاستی رٹ و امن عامہ کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے اسلحہ اور تشدد کا استعمال کوئی نئی بات نہیں بلکہ ماضی قریب میں بھی اس تنظیم کی سرگرمیوں میں تشدد نمایاں رہا ہے۔

سیکرٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ سال 2025 میں تنظیم کے تشدد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تین اہلکار شہید، 52 شدید زخمی اور 350 سے زائد معمولی زخمی ہوئے، جبکہ سال 2024 میں ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور تقریباً 60 شدید زخمی ہوئے اور یہ تمام واقعات گن فائر کا نتیجہ تھے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر الیکشن: خاتون سمیت12 نئے چہرے اسمبلی کا حصہ بن گئے

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں تنظیم کے دو مسلح کارندوں کے اعترافی بیانات میں یہ اقرار کیا گیا کہ انہیں رینجرز کے ایک اہلکار کو قتل کرنے کے عوض ایک کروڑ روپے انعام دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، جس سے تنظیم کی مالی معاونت کے ذرائع کے حوالے سے تشویشناک سوالات جنم لیتے ہیں۔

سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر کے اداروں کی جانب سے تنظیم کے پاس جدید اسلحہ کی موجودگی کے شواہد ویڈیوز اور پریس ریلیز کی صورت میں جاری کیے جا چکے ہیں، اور بی بی سی کو اپنی رپورٹ میں ان مصدقہ شواہد کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر کے سیکیورٹی اداروں نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انتہائی تحمل اور پروفیشنلزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ، ڈیڈ باڈیز اپنے پاس رکھنے یا تشدد کے الزامات درست نہیں جبکہ حکومت آزاد کشمیر کے کسی ادارے کے پاس اس وقت کوئی ڈیڈ باڈی موجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کالعدم تنظیم سے منسلک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کیا جانے والا پروپیگنڈا گمراہ کن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے راستوں کی بندش، اشیائے خوردونوش کی گاڑیوں کو روکنے یا جلانے کے دستاویزی اور مصدقہ ثبوت موجود ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عوام اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی۔

محمد راشد حنیف نے کہا کہ 5 جون کا واقعہ بھی بنیادی طور پر کالعدم تنظیم کی جانب سے مسلح حملے کے جواب میں پیش آیا، جس کے بعد اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ انہی حقائق کے پیش نظر حکومت آزاد کشمیر نے تنظیم کو انسداد دہشت گردی ایکٹ (Anti-Terrorism Act) کے تحت کالعدم قرار دیا تاکہ امن و امان، ریاستی رٹ اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، کیونکہ کوئی بھی تنظیم یا فرد ریاست اور قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سرکاری مؤقف اور اعداد و شمار محکمہ پولیس حکومت آزاد کشمیر کے ایکس (X) x.com/AJKPoliceCPO اکاؤنٹ پر دستیاب ہیں۔