امریکا اور اسرائیل نے ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا لیا

امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران پر تازہ حملوں کا حکم دے دیا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکا ایران کے توانائی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے ہفتے کے اختتام تک کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ،امریکی فوجی قیادت تقسیم، حکمت عملی میں اختلاف سامنے آ گیا

امریکی میڈیا کے مطابق ان منصوبوں سے واقف دو امریکی عہدیداروں نے کہا ہے کہ امریکہ ایران پر نئے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جو اسی ہفتے کے آخر میں کیے جا سکتے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ تنازعے کا کوئی حل تلاش کرنے کے خواہاں ہیں اور ان حملوں کو منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر سخت حملے کریں گے، ایک وقت آئے گا وہ خود بولیں گے اب ہم مزید برداشت نہیں کرسکتے۔

امریکی حملوں میں ایران کو شدید نقصان پہنچا، ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔

ڈ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس، صحافیوں سے گفتگو اور امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ایران، غزہ، حماس کی غیر مسلح کرنے اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر اظہار خیال کیا۔

ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ امریکی حملے فوری طور پر ختم ہونے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم انہیں بہت سخت نشانہ بنائیں گے اور ایک وقت آئے گا جب وہ کہیں گے کہ اب ہم مزید برداشت نہیں کر سکتے۔

امریکی صدر کے مطابق امریکا کا مقصد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت فوجی دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ”صورت حال اچھی جا رہی ہے، ہم انہیں سخت ضربیں لگا رہے ہیں، انہیں بری طرح متاثر کر رہے ہیں اور مسلسل کامیاب ہو رہے ہیں، آخرکار ان کے پاس واپس جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں حماس غیر مسلح،بورڈ آف پیس نے معاہدہ کرلیا، ٹرمپ کا اعلان

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے پاس اب بھی کچھ محدود صلاحیتیں موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ غزہ کے نئے امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے امریکا اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت ہو چکی ہے۔

ان کے مطابق منصوبے کے تحت اسرائیلی افواج مرحلہ وار غزہ سے انخلا کریں گی جب کہ حماس مرحلہ وار اپنے ہتھیار ترک کرے گی تاہم انہوں نے اس پیچیدہ عمل کے مختلف مراحل کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔