امریکی حکام کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات کو بڑا نقصان ہوا ہے جبکہ امریکا نے گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا بھی اعتراف کیا گیا ہے۔
محکمہ خارجہ اور یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کے تعاون سے تیارکردہ رپورٹ میں 28 فروری کو جنگ کے آغاز سےلےکر 30جون تک ہوئے واقعات کا احاطہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران میں گرنے والا امریکی پائلٹ دو دن تک کیسے چھپا رہا؟ کہانی سامنے آگئی
رپورٹ کےمطابق اس دورانیے میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن ٰ میں متعدد امریکی فوجی عمارات تباہ ہوئیں۔
دفاعی گولہ بارود ،میزائل ذخائر میں کمی واقع ہوئی اور سفارتی مشنز کو 184 ملین ڈالر کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بحرین میں بحریہ کے علاقائی مرکز کی تباہی کے نتیجےمیں بحرہند کا جزیرہ ڈیگو گارسیا سمندری لاجسٹکس کا مرکز بن گیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران اور اس کی حامی فورسز کے حملوں کے پیشِ نظر اہلکاروں، اثاثوں اور اسٹوریج کی تنصیبات کو منتقل کیا۔ ان اقدامات میں عراق اور کویت سے فوج کے طبی انخلا والے ہیلی کاپٹروں کی واپسی بھی شامل تھی۔
امریکی حکام نے بتایا کہ یہ ہلاکتیں جنگ کے پہلے 4 ماہ میں ہوئیں، اسی مدت میں ایرانی حملوں میں 18 امریکی جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹرز جبکہ 30 ڈرونز تباہ ہوئے۔
ادھر امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کے مطابق آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکی گولہ بارود کے ذخائر تیزی سے کم ہوئے۔ گولہ بارود کی کمی دور کرنے میں رکاوٹیں بھی سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:خلاء میں بھی بڑی جنگ کا خطرہ، روس اور چین امریکہ پر برہم
رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 30 جون 2026 کے درمیان 11 امریکی فوجی جنگی کارروائیوں میں جبکہ 7 دیگر غیر جنگی واقعات میں جان سے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایرانی حملوں سے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں کی سیکڑوں عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا، کئی عمارتیں مکمل تباہ ہو گئیں۔




