اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کیلئے مسلح جتھوں کی صورت میں آنے کا ارادہ رکھتی ہے، اگر ایسا ہوا تو حکومت شہریوں اور دارالحکومت کی سلامتی کے تحفظ کیلئے کارروائی کا اختیار استعمال کریگی۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی لاہور میں افراتفری پھیلانا چاہتے تھے، تحریک انصاف نے اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ احتجاج کے حوالے سے کچھ بھی بیٹھ کر طے نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی آزادکشمیر کا 16ستمبر کو بلایا گیا اجلاس اچانک ملتوی،سرکلر جاری
ان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج کیلئے ابھی تک کوئی ایسا معاہدہ یا انتظامی اتفاق سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر احتجاج کو معمول کے سیاسی مظاہرے کے طور پر دیکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت مسلح جتھے کی صورت میں آکر نظام تہہ و بالا کرنے کی کوشش کرے تو کیا ریاست کے پاس کارروائی کا اختیار نہیں ہوگا؟ رانا ثنااللہ کے مطابق پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں داخل ہونے دینے کا مطلب شہر کی سلامتی کو داؤ پر لگانا ہوگا۔
وزیراعظم کے مشیر نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف حکومت گرانا اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو رہا کرانا چاہتی ہے اور 27 ستمبر کو صورت حال واضح ہوجائے گی، ان کے بقول تحریک انصاف کے رہنماؤں کی غلط فہمی بھی 27 ستمبر کو دور ہوجائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:نئے صوبوں پر سیمینار میں نہیں پارلیمنٹ میں بحث ہو گی اور منظوری پر ریفرنڈم ہوگا، رانا ثنا اللہ
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اسلام آباد کی سکیورٹی کے پیش نظر اگر احتجاجی قافلے خیبر پختونخوا سے وفاقی دارالحکومت کی جانب بڑھتے ہیں تو اسلام آباد کے بجائے خیبر پختونخوا سے آنے والے راستوں کو بند کیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کو 10 بار بھی شفا اسپتال منتقل کر دیتے تو انہوں نے احتجاج کرنا تھا۔ پی ٹی آئی پرامن احتجاج نہیں کرنا چاہتی، تحریک انصاف کو اسلام آباد میں داخل ہونے دینے کا مطلب شہر کی سلامتی داؤ پر لگانا ہے۔




