مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھربڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سرمایہ کاروں میں خطے سے تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھنے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دباؤ میں آگئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول75پیسے کمی، ڈیزل کی قیمت میں 2روپے24 پیسے اضافے کا اعلان
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد فی بیرل قیمت 87.55 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خطے میں کسی بھی بڑی پیش رفت کے نتیجے میں تیل کی فراہمی کے نظام پر اثر پڑ سکتا ہے جس سے قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 72 ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح تک آ گئی تھی تاہم گزشتہ ہفتے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 102 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا، ایران کشیدگی میں عارضی نرمی، خام تیل کی قیمتیں نیچے آ گئیں
اس سے قبل بھی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3.39 فیصد اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت 86.94 ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا انحصار مشرق وسطیٰ کی صورتحال، پیداوار اور سپلائی کے نظام پر ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔




