عمان میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کی سلامتی اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے حوالے سے پیر کو شیڈول کیا گیا انتہائی اہم اجلاس اچانک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس مجوزہ اجلاس میں ایک اہم علاقائی معاہدے اور تجارتی بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستوں کی فراہمی پر تفصیلی بات چیت کی جانی تھی۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی نے اجلاس منسوخ یا ملتوی کیے جانے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام اتفاقِ رائے کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرنے اور تعمیری مذاکرات کو مزید آگے بڑھانے کے وسیع تر مفاد میں اٹھایا گیا ہے، تاہم حکام کی جانب سے تا حال اجلاس کی کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
اجلاس کی معطلی کے اسباب اور سفارتی پس منظر:
ایرانی حکام کے مطابق یہ اجلاس بعض علاقائی ممالک کی طرف سے کی جانے والی باضابطہ درخواست پر ملتوی کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ تہران اور مسقط کی قیادت کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔ دوسری جانب ذرائع اور رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خلیجی ممالک کے مابین مجوزہ ایران۔عمان انتظام پر مکمل اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باعث بھی اس اہم اجلاس کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہ اجلاس ایسے حساس وقت پر طے تھا جب آبنائے ہرمز میں جاری شدید کشیدگی کے سبب عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی اور خام تیل کی ترسیل کو سنگین نوعیت کے خدشات لاحق ہیں۔ تاریخی طور پر جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی ضروریات اسی بحری راستے کے ذریعے پوری ہوتی تھیں جبکہ حالیہ کشیدگی کے بعد سے آبنائے میں بحری ٹریفک کا حجم معمول سے بہت زیادہ کم ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خطے کے ممالک ہمارے بھائی ، اپنی سرزمین سے حملوں کی اجازت نہ دیں، ایرانی صدر
ایران عمان مذاکرات اور علاقائی اختلافات:
ایرانی حکام کا اجلاس سے قبل کہنا تھا کہ مسقط میں ہونے والی اس ملاقات میں ایران اور عمان کے باہمی اشتراک سے طے پانے والے ممکنہ انتظامات اور تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ راستوں سے متعلق تجاویز باضابطہ طور پر خلیجی ممالک کے سامنے رکھی جائیں گی۔
مختلف رپورٹس کے مطابق تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے ایک بالکل نئے طریقہ کار کے نفاذ پر زور دے رہا ہے، تاہم اس حساس معاملے پر خطے کے تمام متعلقہ ممالک میں تاحال مکمل یکسوئی اور اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا ہے۔ اسی اختلافِ رائے کو خطے میں جاری سفارتی کوششوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ پر اثرات اور بحری سلامتی کے چیلنجز:
اجلاس کا یہ ناگزیر التوا ایسے ماحول میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے جڑی اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تیل کی عالمی سپلائی کے مستقبل پر گہرے بادل منڈلا رہے ہیں اور خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر ایک سو ڈالر فی بیرل سے اوپر جا پہنچی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران، خلیجی ممالک کی عمان میں ملاقات،بحرین نے بائیکاٹ کردیا
اسی دوران آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں کو پیش آنے والے تازہ ترین واقعات نے بھی عالمی سطح پر تشویش میں ہوشربا اضافہ کیا ہے۔ ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے اور اس کے عملے کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کیے جانے کی اطلاعات کے بعد اس بحری گزرگاہ کی سلامتی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔




