پرواز کارڈ پروگرام: بیرونِ ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری

حکومتِ پنجاب نے بیرونِ ملک ملازمت کے متلاشی افراد کی مالی مشکلات کے ازالے کی غرض سے باقاعدہ طور پر پرواز کارڈ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے تاکہ غریب اور ضرورت مند افراد کے مسائل کا بروقت حل نکالا جا سکے۔ اس اسکیم کے تحت مستحق امیدواروں کو غیر ملکی روزگار کے حصول کے دوران پیش آنے والے تمام مصارف کی ادائیگی کے لیے بغیر سود مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈ کے اشتراک سے متعارف کروائے جانے والے اس اقدام کا بنیادی مقصد ایسے شہریوں کی اعانت کرنا ہے جنہیں بیرونِ ملک سے ملازمت کی آفر تو مل جاتی ہے، مگر ویزا، میڈیکل، ٹکٹ اور دیگر لازمی اخراجات اٹھانا ان کے لیے انتہائی دشوار ہوتا ہے۔

پرواز کارڈ کے مستحقین اور بنیادی شرائط:

اس پرواز کارڈ اسکیم کے ذریعے ہنر مند، نیم ہنر مند اور غیر ہنر مند مزدوروں کے علاوہ پروفیشنلز بھی باآسانی فنانسنگ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔ اس سہولت کو حاصل کرنے کے لیے یہ لازم ہے کہ درخواست گزار کے پاس بیرونِ ملک روزگار کی تصدیق شدہ پیشکش موجود ہو۔

اس پروگرام کے لیے کچھ بنیادی ضابطے اور شرائط بھی طے کی گئی ہیں جن کے مطابق امیدوار کی عمر کم از کم اٹھارہ برس ہونی چاہیے۔ درخواست دہنده کے پاس درست پاکستانی شناختی کارڈ کا ہونا ناگزیر ہے جبکہ اس کا پنجاب کا رہائشی ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی صاحبزادی کے نکاح کی تقریب، وزیراعظم اور نواز شریف کی منفرد انٹری

فنانسنگ کے دائرہ کار اور ڈیجیٹل نظام کی تفصیلات:

پرواز کارڈ کی وساطت سے کئی اہم مدات کے لیے مالی مدد لی جا سکے گی جن میں ویزا پروسیسنگ، طبی معائنہ، اسکلز ویری فکیشن اور ہوائی سفر کا ٹکٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک ملازمت فراہم کرنے والے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کی فیس اور روزگار سے جڑے دیگر مجاز اخراجات بھی اسی سہولت کے زمرے میں آئیں گے۔

متعلقہ حکام کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق پورے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے تحت چلایا جائے گا جہاں امیدوار گھر بیٹھے آن لائن درخواست جمع کروا سکیں گے۔ درخواست کی کارروائی اور اس کی روزمرہ پیش رفت کو بھی ڈیجیٹل طریقے سے باآسانی ٹریک کیا جا سکے گا جس کا مقصد اس سارے عمل میں شفافیت اور سہولت لانا ہے۔

پروسیسنگ کا دورانیہ اور روزگار کے حصول کے ذرائع:

حکام کا کہنا ہے کہ اگر درخواست تمام کوائف کے ساتھ مکمل ہو اور مطلوبہ دستاویزات اور تصدیقات موجود ہوں تو اسے تقریباً سات سے دس یوم کے اندر پراسیس کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس تیز رفتار طریقہ کار سے امیدواروں کو اپنی بیرونِ ملک روانگی کے انتظامات کرنے میں بڑی آسانی میسر آئے گی۔

جن افراد کے پاس فی الحال بیرونِ ملک روزگار موجود نہیں ہے، وہ بھی نئے مواقع کی تلاش جاری رکھ سکتے ہیں کیونکہ اس مقصد کے لیے رجسٹرڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے توسط سے دستیاب ملازمتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ملازمت کی مستند پیشکش ہاتھ آنے کے بعد امیدوار تمام مقررہ شرائط پر عمل کرتے ہوئے پرواز کارڈ کے لیے اپنی درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔

پروموٹرز کی رجسٹریشن اور پروگرام کے اصل مقاصد:

پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لیے بھی باقاعدہ رجسٹریشن کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے تاکہ وہ قانونی اور شفاف ذرائع سے بیرونِ ملک روزگار کے مواقع عام عوام تک پہنچا سکیں۔

پرواز کارڈ پروگرام سے بالخصوص ان لوگوں کو شاندار فائدہ پہنچے گا جو بیرونِ ملک جاب حاصل کرنے میں تو کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن ابتدائی اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اس بلاسود مالی امداد کی بدولت انہیں ویزا، میڈیکل، ٹکٹ اور جملہ ضروری مصارف پورے کرنے میں بے پناہ مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستانی ہنرمندوں کے لیے جرمنی کا چانس کارڈ متعارف