مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے سیکیورٹی صورتحال پر اہم نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کی جانب سے پرامن احتجاج کا ڈھونگ رچا کر ریاست مخالف سرگرمیاں کی جا رہی ہیں۔
راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں فورسز پر حملے ایک منظم سازش کا حصہ ہیں، جس کے دوران فائرنگ اور اسنائپر رائفلوں کے حملوں میں 300 سے زائد پولیس اہلکار زخمی اور متعدد شہید ہو چکے ہیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے جدید اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان پولیس ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں شہریوں نے بھرپور حقِ رائے دہی استعمال کیا، تاہم کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسند عام شہریوں کو اذیت پہنچا رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امام مسجد، خاتون و بچےکی شہادت اور کرفیو کی تمام خبریں من گھڑت ہیں،میرپور انتظامیہ
انہوں نے واضح کیا کہ ان مظاہرین میں شامل شرپسندوں کے پاس جدید اسلحہ اور اسنائپر رائفلیں موجود ہیں جن سے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدف بنا کر شہید اور زخمی کیا جا رہا ہے۔ یہ جتھے اپنے ہی بندوں پر گولیاں چلا کر سیکیورٹی اداروں پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں اور پھر جعلی ویڈیوز کے ذریعے پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں۔
ایس ایس پی ریاض مغل نے عوام سے حقائق پر نظر رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی طرف سے کسی قسم کی جارحانہ کارروائی نہیں کر رہے۔
اگر پولیس اور رینجرز نے گولیاں چلانا ہوتیں تو کالعدم کمیٹی کا ایک بندہ بھی بچ کر نہ نکل سکتا، لیکن فورسز صرف ان عناصر کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں جو انتشار پھیلانے اور جوانوں پر فائرنگ کرنے میں ملوث ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور ڈویژن الیکشن:کامیاب امیدواروں کانوٹیفکیشن جاری
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس کالعدم کمیٹی میں منشیات فروشوں اور ڈرگ ڈیلروں کی اکثریت ہے جنہیں کمیٹی کی آڑ میں شیلٹر ملا ہوا ہے۔ 10 یا 15 ہزار لوگوں کو پورے کشمیر کا چہرہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان میں کرمنلز، جرائم پیشہ اور ریاست مخالف لوگوں کی کثیر تعداد شامل ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو دعوت دی کہ وہ 29 ستمبر کی ویڈیوز نکال کر خود دیکھ لیں کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم؟
ایس ایس پی ریاض مغل کا کہنا ہے کہ ریاست کی رٹ برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کیلئے شرپسندوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔




