آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کی صدارت میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ایم این اے و پارلیمانی سیکرٹری ملک ابرار احمد ،سینیٹر انوشہ رحمان ،ایم این اے ملک سہیل خان کمڑیال ،ایم این اے میجر طاہر اقبال ،سابق صوبائی وزیر جہانگیر خانزادہ ،ایم پی اے و پارلیمانی سیکرٹری چوہدری حیدر سلطان ،ایم پی اے و پارلیمانی سیکرٹری ملک شہریار اعوان ،ٹکٹ ہولڈر حمید اکبر خان ودیگر نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں:مڑے تڑے زنگ آلود تیر سے شیر کا شکار،آپ سے یہ نہیں ہوگا، سعد رفیق کا بلاول پر طنز
اس موقع پر آزاد کشمیر کے انتخابات، انتخابی حکمتِ عملی، تنظیمی امور اور عوامی رابطہ مہم کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ شرکاء نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون اور موثر انتخابی مہم چلانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ادھر ایک کارنرمیٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان میں آزاد کشمیر کے بہن بھائیوں کے وہی حقوق ہیں جو ہمارے ہیں۔ وہ بلا خوف و جھجک ہر شہر میں آئیں، کاروبار کریں، نوکریاں کریں۔
یہ ان کا بنیادی حق ہے لیکن حقوق کی آڑ میں ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی اور گالی گلوچ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات، امن اور شفاف الیکشن کے ذریعے ہو۔
یہ بھی پڑھیں:امیر مقام کا راج محل کا دورہ،حلقہ کے 75فیصد عوام ن لیگ کے ووٹرز ہیں،ملک نواز
انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کا مینارِ پاکستان کے سائے تلے پاکستان کو تسلیم کرنا کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اگر میاں نواز شریف کے ویژن پر عمل ہوتا تو آج مسئلہ کشمیر حل اور خطے کے ڈیڑھ ارب انسان خوشحال ہوتے۔
تمام معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان کشمیریوں کا فرض نبھاتا رہے گا کیونکہ جب تک کشمیر کا فیصلہ نہیں ہوتا پاکستان اور تقسیمِ برصغیر کا ایجنڈا مکمل نہیں ہوتا۔




