ریاض: سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور حوثی حملوں پر غور کیا گیا۔
سعودی کابینہ نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ مملکت اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔
یہ بھی پڑھیں:یوم دفاع پر ریاض میں پروقار تقریب، جنرل(ر) راحیل شریف،سعودی مسلح افواج کے جنرل فہد بن عبداللہ کی شرکت
کابینہ اجلاس میں بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں اور بین الاقوامی بحری نقل و حرکت کو نشانہ بنانے کی بھی شدید مذمت کی گئی۔
اجلاس میں زخمیوں کو اعلیٰ ترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ فلسطین کے معاملے پر عرب مشترکہ کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے القدس اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری اور جبری بے دخلی کی پالیسیوں کی مخالفت کی گئی۔
سعودی کابینہ نے سعودی عرب اور جرمنی کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت کا بھی خیرمقدم کیا۔
قبل ازیں سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ مملکت حوثیوں کے حملوں کے خلاف اپنے دفاع سے کسی صورت گریز نہیں کرے گی۔
ماسکو میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حوثی ملیشیا جب بھی خود کو مشکل صورتحال میں پاتی ہے تو تشدد کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ حوثی یمن میں اپنے داخلی مسائل سعودی عرب تک منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ حوثیوں کے لیے سفارت کاری کا دروازہ کھلا ہے تاہم جب بھی وہ خود کو مشکل صورتحال میں پاتے ہیں تو تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ سعودی عرب میں شہری اہداف پر حوثیوں کے حملے ناقابلِ قبول ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل کی سعودی وزیر دفاع اور ترک وزیر خارجہ سے اہم ملاقاتیں
انہوں نے کہا کہ باب المندب آبنائے میں سلامتی اور آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
خیال رہے منگل کو اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا تھا کہ حوثی حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کے مختلف شہروں میں خواتین اور بچوں سمیت 70 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔




