سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے ایک طنزیہ پوسٹ میں کہا ہے کہ زنگ آلود تیر سے شیر کا نہیں لومڑیوں کا شکار ہوتا ہے اور یہ آپ سے نہیں ہوگا۔
بلاول بھٹو کی آزاد کشمیر کے علاقے میر پور میں تقریر کے بعد سماجی رابطے کی سائٹ پر ایک طنزیہ پوسٹ میں خواجہ سعد رفیق نے لکھا کہ مڑے تڑے زنگ آلود تیر گیدڑوں اور لومڑیوں کا شکار کرسکتے ہوں گے۔
مُڑے تُڑے زنگ آلُود تیر ،گیدڑوں اور لومڑیوں کا شکار کرسکتےھونگے ، شیر کا نہیں ۔۔۔
آپ سے نہیں ھو گا !!
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) July 22, 2026
انہوں نے لکھا کہ ان تیروں سے شیر کا شکار نہیں ہوسکتا اور ویسے بھی آپ سے یہ نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم جاری ہے جس کے دوران بلاول بھٹو اب تک دو جلسوں سے خطاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ تیروں کی بارش کرکے کشمیر میں بھی ویسے ہی شیر کا شکار کریں گے جیسے گلگت بلتستان میں کیا تھا۔
سعد رفیق کا بیان سیاسی دیوالیہ پن ،شرجیل میمن
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے خواجہ سعد رفیق کے بیان کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ، تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش اور قومی یکجہتی کے خلاف قرار دے دیا۔
لیگی رہنما کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق سیاسی دیوالیہ پن اور اخلاقی افلاس کا شکار ہوگئے ہیں، طنزیہ جملوں سے نہ تاریخ بدلی جا سکتی ہے اور نہ ہی عوام کی رائے کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سقوطِ ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک المناک سانحہ ہے، جس کے زخم آج بھی پوری قوم کے دلوں میں تازہ ہیں، ایسے حساس قومی المیے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنا قوم کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے دوتہائی اکثریت دیں، وعدہ ہے کشمیری عوام کے حقوق کی ترمیم لائوں گا، بلاول بھٹو زرداری
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سقوطِ ڈھاکہ کا ذمہ دار شہید بھٹو کو قرار دینے سے پہلے خواجہ سعد رفیق کو حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پڑھنی چاہئے تھی، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کو شہید بھٹو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور عوام کو سیاسی شعور دیا، ن لیگ آج بھی شہید بھٹو کے دیئے ہوئے ایٹم بم کے دھماکے کو اپنی کامیابی گنواتی ہے، بھٹو خاندان خدمات پاکستانی تاریخ کا روشن باب ہیں، جنہیں سیاسی مخالفت کی بنیاد پر جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو پوری دنیا میں جمہوریت، جرات اور عوامی حقوق کی علامت کے طور پر یاد کی جاتی ہیں، بھٹو خاندان کو سیاسی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے قومی تاریخ کو متنازع بنانا انتہائی افسوسناک طرزِ سیاست ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کا یہ کہنا کہ باسی، بوسیدہ، زنگ آلود، مڑے تڑے تیر شیر کا شکار نہیں کر سکتےدراصل مسلم لیگ (ن) کو چاہیے کہ وہ ماضی کے تلخ قومی سانحات کو سیاسی ہتھیار بنانے سے گریز کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نفرت انگیز بیانیوں اور تاریخی تقسیم کی نہیں بلکہ اتحاد، برداشت اور مستقبل کی سیاست کی ضرورت ہے۔




