گلاسگو(کشمیر ڈیجیٹل)اسکاٹ لینڈ میں لیبر پارٹی کے رہنما انس سرور نے برطانیہ کی نئی حکومت میں وزیر تجارت کا عہدہ سنبھال لیا۔
انس سرور اسکاٹش پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر ہاؤس آف لارڈز کے رکن بھی بن گئے ہیں۔
اسکاٹش لیبر پارٹی کو اسکاٹش پارلیمنٹ کے گزشتہ انتخابات میں بری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت پارٹی کے بعض رہنماؤں نے اس شکست کی وجوہات میں سر کیئر اسٹارمر کی پالیسیوں کو بھی شامل قرار دیا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آنا کمال نہیں: شرجیل میمن ن لیگی قیادت پر برس پڑے
انس سرور ان ابتدائی بڑے لیبر رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے سر کیئر اسٹارمر سے قیادت چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔
انس سرور گزشتہ جمعہ کو اس تقریب میں بھی موجود تھے جہاں اینڈی برنم کو برطانیہ کی لیبر پارٹی کا نیا سربراہ منتخب کیا گیا۔
انس سرور سابق گورنر پنجاب اور برطانیہ کے پہلے مسلمان رکن پارلیمنٹ چوہدری محمد سرور کے صاحبزادے ہیں۔
انہوں نے صرف 27 سال کی عمر میں 2010 میں گلاسگو سینٹرل سے برطانوی پارلیمنٹ کا انتخاب جیت کر سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ 2016 میں وہ اسکاٹش پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مرحلہ وار انتخابی شیڈول،پی ٹی آئی آزادکشمیر کا الیکشن کمیشن کو خط ارسال
2021 میں انس سرور نے تاریخ رقم کرتے ہوئے اسکاٹش لیبر پارٹی کے پہلے غیر سفید فام رہنما کا اعزاز حاصل کیا۔
2024 کے برطانوی عام انتخابات میں ان کی قیادت میں اسکاٹش لیبر نے شاندار واپسی کی اور اسکاٹ لینڈ میں اپنی نشستیں ایک سے بڑھا کر 37 کر لیں، جو پارٹی کی ایک تاریخی کامیابی سمجھی گئی۔
انس سرور کا سیاسی سفر برطانیہ میں تارکینِ وطن کا پس منظر رکھنے والی کمیونٹیوں کے لیے بھی ایک اہم مثال سمجھا جاتا ہے، جہاں انہوں نے مقامی سیاست سے لے کر برطانیہ کی قومی سیاست تک نمایاں مقام حاصل کیا۔




