اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (پیاس) یونیورسٹی کی 12ویں کانووکیشن کی پروقار تقریب انعام الرحمٰن آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی چیئرمین پیاس یونیورسٹی بورڈ آف گورنرز اور چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، ڈاکٹر راجہ علی رضا انور تھے جنہوں نے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 270 کامیاب بی ایس طلباء و طالبات میں ڈگریاں تقسیم کیں۔
یہ بھی پڑھیں: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا چینی زبان کے فروغ کیلئے مرکز قائم کرنے کا فیصلہ
اس موقع پر الیکٹریکل انجینئرنگ، مکینیکل انجینئرنگ، کیمیکل انجینئرنگ، میٹریلز اینڈ میٹالرجیکل انجینئرنگ، فزکس اور کمپیوٹر اینڈ انفارمیشن سائنسز سمیت مختلف شعبوں کے طلبہ و طالبات کو ڈگریاں عطا کی گئیں۔
تقریب میں ممتاز سائنس دان ڈاکٹر انعام الرحمٰن، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ممبران، ڈائریکٹر جنرلز، ڈائریکٹرز، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور ان کے والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اپنے خطاب میں چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے اس بات پر خصوصی مسرت کا اظہار کیا کہ اس سال ڈگری حاصل کرنے والوں میں طالبات کی اکثریت رہی، جو اس امر کی عکاس ہے کہ پاکستان کی بیٹیاں سائنس، انجینئرنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔

انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے والدین اور اساتذہ کی انتھک محنت، رہنمائی اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے نوجوان انجینئرز پر زور دیا کہ وہ صرف ملازمت کے حصول تک اپنی سوچ محدود نہ رکھیں بلکہ Entrepreneurship کو بھی اپنی اولین ترجیح بنائیں، کیونکہ نئی سوچ اور کاروباری قیادت ہی قوموں کی معاشی خودمختاری، خود انحصاری اور پائیدار ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان صرف روزگار حاصل کرنے والے نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بھی بنیں۔
بیرونِ ملک جانے والے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب آپ پاکستان سے باہر جاتے ہیں تو آپ صرف اپنی ذات ہی نہیں بلکہ اپنے ادارے، اپنے پیشے اور اپنے وطن کے نمائندے اور سفیر بھی ہوتے ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے کردار، اخلاق، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہترین طرزِ عمل کے ذریعے ہمیشہ پاکستان کا مثبت اور باوقار تشخص دنیا کے سامنے اجاگر کریں۔
تقریب کے آغاز میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (پیاس) یونیورسٹی کی ریکٹر، ڈاکٹر انیلہ عثمان نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو دلی مبارکباد پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہبازشریف کی مظفرآباد میں دانش یونیورسٹی کا کیمپس بنانے کی ہدایت
انہوں نے چیئرمین پیاس یونیورسٹی بورڈ آف گورنرز اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی مسلسل سرپرستی اور بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسی تعاون کی بدولت پیاس یونیورسٹی تعلیم، تحقیق اور اختراع کے میدان میں مسلسل ترقی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیاس یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبا و طالبات اپنی اعلیٰ تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت، عملی تربیت اور صنعتی شعبے کی ضروریات سے ہم آہنگ صلاحیتوں کی بدولت ملکی اور بین الاقوامی اداروں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی کا ملکی صنعتوں، تحقیقی اداروں اور قومی اہمیت کے مختلف اداروں کے ساتھ مضبوط اشتراک موجود ہے، جس کے نتیجے میں طلبہ کو عملی تجربہ، بہتر روزگار اور پیشہ ورانہ ترقی کے وسیع مواقع حاصل ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر انیلہ عثمان نے مزید بتایا کہ حالیہ کیو ایس (QS) ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2027 میں پیاس یونیورسٹی نے پاکستان کی جامعات میں تیسری پوزیشن برقرار رکھی جبکہ عالمی درجہ بندی میں نمایاں بہتری کے بعد دنیا کی جامعات میں 560ویں پوزیشن حاصل کی جو معیاری تعلیم، جدید تحقیق، عالمی معیار کے تدریسی نظام اور صنعت کے ساتھ مؤثر روابط کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے اس کامیابی کو اساتذہ، طلبہ، محققین اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی مسلسل سرپرستی کا مشترکہ نتیجہ قرار دیا۔
کانووکیشن کے اختتام پر خوشی اور مسرت کا ماحول دیکھنے میں آیا۔ فارغ التحصیل طلبہ و طالبات نے گاؤن اور کیپس میں یادگاری تصاویر بنوائیں جبکہ والدین نے اپنے بچوں کی کامیابی پر خوشی اور فخر کا اظہار کیا۔
شرکاء نے اس موقع کو اپنی زندگی کا ایک یادگار دن قرار دیتے ہوئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور پیاس یونیورسٹی کی معیاری تعلیم، عالمی معیار کی تحقیق اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مسلسل خدمات کو سراہا۔




