مودی سرکارکی ویڈیو بنانے پر بھاری معاوضہ کی پیشکش، نوجوان نے بھانڈہ پھوڑ دیا

بھارتی نوجوان نے مودی سرکار کا گھنائونا چہرہ بے نقاب کرتے ہوئےکہا ہے کہ اسے ایک مارکیٹنگ ایجنسی کی جانب سے بھاری معاوضے کے عوض بھارتی حکومت کے حق میں اور ملک میں جاری طلبہ و نوجوانوں کے احتجاج کے خلاف ویڈیو بنانے کی پیشکش کی گئی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں نوجوان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مہم کا مقصد حکومت کی کارکردگی کے بارے میں مثبت تاثر اجاگر کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں پرامن احتجاج جرم بن گیا، راہول گاندھی،پریانکا گاندھی گرفتار

وائرل ویڈیو میں نوجوان نے بتایا کہ اسے ایک مارکیٹنگ ایجنسی کی جانب سے ایسی ویڈیو تیار کرنے کی پیشکش موصول ہوئی جس میں مودی حکومت کے حق میں مؤقف اختیار کرنے اور ملک میں جاری طلبہ و نوجوانوں کے احتجاج کو منفی انداز میں پیش کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

نوجوان کے مطابق اسے گزشتہ رات ایک ای میل موصول ہوئی جس میں مبینہ طور پر حکومت کے حق میں ویڈیو بنانے کے عوض 40 ہزار بھارتی روپے کی پیشکش کی گئی۔

اس کا کہنا تھا کہ ای میل میں یہ بھی بتایا گیا کہ ویڈیو کا مکمل اسکرپٹ بھی فراہم کیا جائے گا، جبکہ ویڈیو میں یہ مؤقف اپنانے کو کہا گیا کہ احتجاج کے باعث ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ویڈیو پیغام میں نوجوان نے سوال اٹھایا کہ اگر ایسی مہمات چلائی جا رہی ہیں تو ان پر خرچ ہونے والی رقم کہاں سے آ رہی ہے اور کیا عوامی وسائل اس مقصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اس نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف سرکاری اداروں کے استعمال سے متعلق بھی خدشات موجود ہیں۔

بھارتی نوجوان کی وائرل ہونے والی ویڈیو سے یہ واضح رہا ہے کہ پاکستان مخالف مسلسل جھوٹ نے مودی کے میڈیا مہروں پر عوام کا اعتماد ختم کر دیا اور مودی سرکار نے احتجاج دبانے کیلئے سرکاری خزانہ کھول دیا۔ گورو آریا، ارنب گوسوامی اور ادتیہ راج کول کا جھوٹا بیانیہ ہوا بھارتی عوام پر عیاں ہونے کے بعد احتجاج سے گھبرائی مودی سرکار اب پیسوں سے عوام خریدنے کی کوشش کررہی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:مودی کی غلط پالیسیاں سائنسدانوں پر بھاری،ملک چھوڑکر جانے لگے، بھارتی صحافی

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس ویڈیو کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور حکومتی بیانیے کے حق میں مبینہ پی آر مہم سے جوڑا، جبکہ بعض پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ احتجاجی مظاہروں کے بعد عوامی تاثر بہتر بنانے کے لیے منظم تشہیری مہم چلائی جا رہی ہے۔