آزاد کشمیر ہائی کورٹ کی جانب سے ایڈہاک ایکٹ 2026 کی معطلی کے فیصلے کو سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں چیلنج کر دیا گیا۔
ایڈہاک ملازمین کی طرف سے راجہ اطہر علی خان بنام خضر سلیم وغیرہ اور نعمان طارق وغیرہ بنام خضر سلیم وغیرہ کے عنوان سے دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کل متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر ہائی کورٹ: ایڈہاک ایکٹ 2026 کے خلاف رٹ پٹیشن کی سماعت 3 اگست تک ملتوی
ہائی کورٹ نے 14 جولائی کو ہزاروں عارضی، ایڈہاک اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے والے ایکٹ کو معطل کیا تھا۔
یاد رہے کہ آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ایڈہاک ایکٹ 2026 کے خلاف دائر رٹ پٹیشن کی مزید سماعت کے لیے آئندہ تاریخ 3 اگست 2026 مقرر کی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس اہم نوعیت کے کیس کی سماعت کے لیے مناسب ڈویژن بینچ یا لارجر بینچ کی تشکیل کی غرض سے معاملہ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کو ارسال کرتے ہوئے ان سے باقاعدہ رجوع کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ “خضر سلیم بنام آزاد حکومت” کے عنوان سے دائر مقدمے کو عدالت عالیہ نے ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ایڈہاک ایکٹ 2026 کے احکامات کو آئندہ سماعت تک کے لیے پہلے ہی معطل کر رکھا ہے۔
اس قانون ساز ایکٹ کے تحت آزاد کشمیر کے مختلف سرکاری شعبہ جات میں تعینات تقریباً 5 ہزار ایڈہاک، عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقلی کا پروانہ جاری کیا گیا تھا، جسے شفافیت اور آئینی ضوابط کے منافی قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
3 اگست کو ہونے والی آئندہ سماعت میں بینچ کی تشکیل اور اس اہم قانون سازی کے مستقبل سے متعلق کارروائی متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری: نئے بنیادی پے اسکیلز اور 7 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس نافذ
یہ بھی یاد رہے کہ آزادکشمیر حکومت نےاپنے آخری ایام میں ہزاروں ملازمین کو مستقل کیا تھاجس پر نوجوانوں میں تشویش پائی جاتی ہے جبکہ ایڈہاک ملازمین نے اس کا خیرمقدم ہے۔
راجہ فاروق حیدر کی حکومت نے بھی اپنے آخری ایام میں ملازمین کو مستقل کیا تھا ، پی ٹی آئی نے حکومت بننے کے بعد ایکٹ معطل کردیا تھا ۔




