سینئر صحافی واینکر پرسن حامد میر کے مطابق وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہاہے کہ حکومت یا اس کے کسی ادارے کی طرف سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی ان سے کوئی وعدہ کیا گیا ہے۔
ایک ٹویٹ میں حامد میر نے کہا کہ وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے واضح کیا ہے کہ حکومت یا اس کے کسی ادارے کی طرف سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی ان سے کوئی وعدہ کیا گیا ہے۔
وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت یا اسکے کسی ادارے کی طرف سے کالعدم جائینٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی ان سے کوئی وعدہ کیا گیا ہے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قمر رضا نامی شخص کے ذریعہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایکشن کمیٹی… https://t.co/8y2QzjegFb
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) July 15, 2026
حامد میر کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قمر رضا نامی شخص کے ذریعے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا نہ کوئی یقین دہانی کرائی ہے۔
البتہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ وہ حکومت اور ایکشن کمیٹی میں بات چیت کرانے کی کوشش کررہی ہے لیکن ابھی کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: شرپسندوں کیلئے فالتو ٹائم نہیں،قمررضا پروپیگنڈا پھیلانے پرکالعدم ایکشن کمیٹی پر برس پڑے
یاد رہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے چیئرمین اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن سید قمر رضا کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے جس پر لانگ مارچ ملتوی کیا ہے جبکہ سید قمر رضا بھی کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارندوں کے دعوے کی تردید کرچکے ہیں۔
اب وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے بھی واضح کردیا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں،کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے گزشتہ روز مظفرآباد لانگ مارچ کی کال دی تھی جو اچانک ملتوی کرکے 22جولائی کی ڈیڈلائن دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن جاری اعلامیہ میں کسی قسم کے ڈیڈلائن نہیں دی گئی۔




